Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3988 (مشکوۃ المصابیح)
[3988] رواہ مسلم (1390/ 1812 و الروایۃ الثانیۃ 1812/137)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ يَزِيدَ بْنِ ہُرْمُزَ قَالَ: كَتَبَ نَجْدَةُ الْحَرُورِيُّ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُہُ عَنِ الْعَبْدِ وَالْمَرْأَة يحْضرَانِ لمغنم ہلْ يُقسَمُ لَہما؟ فَقَالَ ليزيدَ: اكْتُبْ إِلَيْہِ أَنَّہُ لَيْسَ لَہُمَا سَہْمٌ إِلَّا أَنْ يُحْذَيَا. وَفِي رِوَايَةٍ: كَتَبَ إِلَيْہِ ابْنُ عَبَّاسٍ: إِنَّكَ كَتَبْتَ إِلَيَّ تَسْأَلُنِي: ہَلْ كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَغْزُو بِالنِّسَاءِ؟ وَہَلْ كَانَ يَضْرِبُ لَہُنَّ بِسَہْمٍ؟ فَقَدْ كَانَ يَغْزُو بِہِنَّ يُدَاوِينَ الْمَرْضَی وَيُحْذَيْنَ مِنَ الْغَنِيمَةِ وَأَمَّا السَّہْمُ فَلَمْ يَضْرِبْ لَہُنَّ بِسَہْمٍ. رَوَاہُ مُسلم
یزید بن ہرمز ؓ بیان کرتے ہیں،نجدہ حروری نے ابن عباس ؓ کی طرف خط لکھا جس میں اس نے مسئلہ دریافت کیا کہ اگر مال غنیمت کی تقسیم کے وقت غلام اور عورت موجود ہوں تو کیا ان کا حصہ نکالا جائے گا؟ انہوں نے یزید ؓ سے فرمایا: اسے جواب لکھو ان دونوں کے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں البتہ تھوڑا سا دے دیا جائے۔اور ایک دوسری روایت میں ہے: ابن عباس ؓ نے اسے جواب لکھا: تم نے اپنے خط میں لکھا ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عورتیں جہاد کیا کرتیں تھیں،اور کیا ان کا حصہ مقرر کیا جاتا تھا؟ ہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ عورتیں جہاد میں شریک ہوتیں تھیں،وہ مریضوں کا علاج معالجہ کرتی تھیں،انہیں مال غنیمت میں سے دیا جاتا تھا،رہا حصہ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے لیے کوئی حصہ مقرر نہیں فرمایا۔رواہ مسلم۔