Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 3997 (مشکوۃ المصابیح)

[3997] متفق علیہ، رواہ البخاري (6707) و مسلم (115/183)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْہُ قَالَ: أَہْدَی رَجُلٌ لِرَسُولِ اللہِ ﷺ غُلَامًا يُقَالُ لَہُ: مِدْعَمٌ فَبَيْنَمَا مِدْعَمٌ يَحُطُّ رَحْلًا لِرَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہ عَلَيْہِ وَسلم إِذْ أَصَابَہُ سہم عاثر فَقَتَلَہُ فَقَالَ النَّاسُ: ہَنِيئًا لَہُ الْجَنَّةُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((كَلَّا وَالَّذِي نَفسِي بِيَدِہِ إِن الثملة الَّتِي أَخَذَہَا يَوْمَ خَيْبَرَ مِنَ الْمَغَانِمِ لَمْ تُصِبْہَا الْمَقَاسِمُ لَتَشْتَعِلُ عَلَيْہِ نَارًا)) . فَلَمَّا سَمِعَ ذَلِك النَّاس جَاءَ رجل بشرك أَوْ شِرَاكَيْنِ إِلَی النَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ: ((شِرَاكٌ مِنْ نَارٍ أَوْ شِرَاكَانِ من نارٍ))

ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں،ایک آدمی نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مدعم نامی ایک غلام بطور ہدیہ پیش کیا،مدعم،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی سواری کا کجاوہ اتار رہا تھا کہ اسے ایک نامعلوم جانب سے ایک تیر آ لگا جس سے وہ قتل ہو گیا،لوگوں نے کہا: اسے جنت مبارک ہو،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ہرگز نہیں،اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس نے غزوہ خیبر کے مالِ غنیمت میں سے،اس کی تقسیم سے پہلے،جو چادر چوری کی تھی وہ اس پر آگ بھڑکا رہی ہے۔‘‘ جب لوگوں نے یہ بات سنی تو ایک آدمی ایک تسمہ یا دو تسمے نبی صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں لے آیا۔اس پر آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’ایک تسمہ یا دو تسمے آگ (میں جانے کے سبب) سے ہیں۔‘‘ متفق علیہ۔