Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4009 (مشکوۃ المصابیح)

[4009] إسنادہ صحیح، رواہ أبو داود (7253)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي الْجُوَيْرِيَّةِ الْجَرْمِيِّ قَالَ: أَصَبْتُ بِأَرْضِ الرُّومِ جَرَّةً حَمْرَاءَ فِيہَا دَنَانِيرُ فِي إِمْرَةِ مُعَاوِيَةَ وَعَلَيْنَا رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ ﷺ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ يُقَالُ لَہُ: مَعْنُ بْنُ يَزِيدَ فَأَتَيْتُہُ بِہَا فَقَسَمَہَا بَيْنَ الْمُسْلِمِينَ وَأَعْطَانِي مِنْہَا مِثْلَ مَا أَعْطَی رَجُلًا مِنْہُمْ ثُمَّ قَالَ: لَوْلَا أَنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ: ((لَا نَفَلَ إِلَّا بَعْدَ الْخُمُسِ)) لَأَعْطَيْتُكَ. رَوَاہُ أَبُو دَاوُد

ابو جویریہ جرمی ؓ بیان کرتے ہیں،معاویہ کے دورِ امارت میں روم کی سر زمین پر مجھے ایک سرخ گھڑا ملا جس میں دینار تھے۔رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے،معن بن یزید نامی،صحابی ہمارے امیر تھے جو کہ بنو سلیم قبیلے سے تھے،میں نے وہ گھڑا ان کی خدمت میں پیش کر دیا،انہوں نے اسے مسلمانوں کے مابین تقسیم کر دیا اور مجھے بھی سب کے برابر ہی حصہ دیا،پھر فرمایا: اگر میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ نہ سنا ہوتا کہ خمس نکالنے کے بعد اضافی حصہ دیا جائے گا تو میں تمہیں ضرور دیتا۔‘‘ اسنادہ صحیح،رواہ ابوداؤد۔