Mishkaat ul Masabeeh Hadith 4176 (مشکوۃ المصابیح)

[4176] رواہ مسلم (2063/186)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ ضَافَہُ ضَيْفٌ وَہُوَ كَافِرٌ فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَہَا ثُمَّ أُخْرَی فَشَرِبَہُ ثُمَّ أُخْرَی فَشَرِبَہُ حَتَّی شَرِبَ حِلَابَ سَبْعِ شِيَاہٍ ثُمَّ إِنَّہُ أَصْبَحَ فَأَسْلَمَ فَأَمَرَ لَہُ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِشَاةٍ فَحُلِبَتْ فَشَرِبَ حِلَابَہَا ثُمَّ أَمَرَ بِأُخْرَی فَلَمْ يَسْتَتِمَّہَا فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((الْمُؤْمِنُ يَشْرَبُ فِي مِعًی وَاحِدٍ وَالْكَافِرُ يشربُ فِي سَبْعَة أمعاء))

اور صحیح مسلم کی دوسری روایت جو کہ ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے،اس میں ہے کہ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے ہاں ایک کافر شخص مہمان ٹھہرا۔رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک بکری کے متعلق فرمایا تو اس کا دودھ دھویا گیا،اس نے اس کا سارا دودھ پی لیا،پھر دوسری کا دودھ دھویا گیا تو اس نے وہ بھی پی لیا،پھر ایک اور کا دودھ دھویا گیا،اس نے اسے بھی پی لیا،حتی کہ اس نے سات بکریوں کا دودھ پی لیا،پھر اگلے روز اس نے اسلام قبول کر لیا،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے لیے ایک بکری کے متعلق حکم فرمایا،اس کا دودھ دھویا گیا اس نے اس کا دودھ پی لیا،پھر دوسری کے متعلق حکم دیا گیا تو وہ دوسری کا سارا دودھ نہ پی سکا،تو رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’مومن ایک آنت میں پیتا ہے جبکہ کافر سات آنتوں میں پیتا ہے۔‘‘ رواہ مسلم۔