Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5503 (مشکوۃ المصابیح)
[5503] إسنادہ ضعیف، رواہ الترمذي (2248 و قال: حسن غریب) ٭ فیہ علي بن زید بن جدعان: ضعیف .
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
وَعَنْ أَبِي بَكْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسلم: ((يمْكث أَبُو الدَّجَّالِ ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَہُمَا وَلَدٌ ثُمَّ يُولَدُ لَہُمَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضْرَسُ وَأَقَلُّہُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاہُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُہُ)) . ثُمَّ نَعَتَ لَنَا رَسُولُ اللہِ ﷺ أَبَوَيْہِ فَقَالَ: ((أَبُوہُ طُوَالٌ ضَرْبُ اللَّحْمِ كَأَنَّ أَنْفَہُ مِنْقَارٌ وَأُمُّہُ امْرَأَةٌ فِرْضَاخِيَّةٌ طَوِيلَةُ الْيَدَيْنِ)) . فَقَالَ أَبُو بَكْرَةَ: فَسَمِعْنَا بِمَوْلُودٍ فِي الْيَہُود. فَذَہَبْتُ أَنَا وَالزُّبَيْرُ بْنُ الْعَوَّامِ حَتَّی دَخَلْنَا عَلَی أَبَوَيْہِ فَإِذَا نَعْتُ رَسُولِ اللہِ ﷺ فِيہِمَا فَقُلْنَا ہَلْ لَكُمَا وَلَدٌ؟ فَقَالَا: مَكَثْنَا ثَلَاثِينَ عَامًا لَا يُولَدُ لَنَا وَلَدٌ ثُمَّ وُلِدَ لَنَا غُلَامٌ أَعْوَرُ أَضْرَسُ وَأَقَلُّہُ مَنْفَعَةً تَنَامُ عَيْنَاہُ وَلَا يَنَامُ قَلْبُہُ قَالَ فَخَرَجْنَا مِنْ عِنْدِہِمَا فَإِذَا ہُوَ مجندل فِي الشَّمْسِ فِي قَطِيفَةٍ وَلَہُ ہَمْہَمَةٌ فَكَشَفَ عَن رَأسہ فَقَالَ: مَا قلتما: وَہَلْ سَمِعْتَ مَا قُلْنَا؟ قَالَ: نَعَمْ تَنَامُ عَيْنَايَ وَلَا ينَام قلبِي رَوَاہُ التِّرْمِذِيّ
ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:’’دجال کے والدین تیس سال تک (بے اولاد) رہیں گے اور ان کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہو گا،پھر ان کے ہاں لڑکا پیدا ہو گا جو کانا،بڑے دانتوں والا اور بہت ہی کم منافع پہنچانے والا ہو گا،اس کی آنکھیں سوئیں گی لیکن اس کا دل نہیں سوئے گا۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے والدین کے متعلق ہمیں تعارف کرایا،فرمایا:’’اس کا والد طویل القامت،پتلا ہو گا اور اس کی ناک لمبی ہو گی،اس کی والدہ موٹی لمبے ہاتھوں والی ہو گی۔‘‘ ابوبکرہ ؓ بیان کرتے ہیں،ہم نے مدینہ میں یہودیوں کے ہاں ایک بچے کی ولادت کی خبر سنی تو میں اور زبیر بن عوام ؓ گئے حتی کہ ہم اس کے والدین کے پاس پہنچ گئے،دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو صفات بیان کی تھیں وہ ان میں موجود تھیں،ہم نے ان سے کہا: کیا تمہارا کوئی بچہ ہے؟ انہوں نے کہا: ہم تیس سال تک (بے اولاد) رہے،اور ہمارے ہاں کوئی بچہ پیدا نہ ہوا،پھر ہمارے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جو کانا،لمبے دانتوں والا اور انتہائی کم نفع مند ہے،اس کی آنکھیں سوتی ہیں لیکن اس کا دل نہیں سوتا۔راوی بیان کرتے ہیں،ہم ان دونوں کے پاس سے نکلے تو وہ ایک چادر میں لپٹا ہوا دھوپ میں زمین پر لیٹا ہوا تھا اور اس کی آواز پست تھی،اس نے اپنے سر سے کپڑا اٹھایا تو یہ کہا: تم دونوں نے یہ کیا کہا تھا؟ ہم نے کہا: ہم نے جو کہا تھا کیا تو نے اسے سن لیا تھا؟ اس نے کہا: ہاں،میری آنکھیں سوتی ہیں جبکہ میرا دل نہیں سوتا۔اسنادہ ضعیف،رواہ الترمذی۔