Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5554 (مشکوۃ المصابیح)

[5554] رواہ مسلم (17/ 2969)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَضَحِكَ فَقَالَ: ہَلْ تَدْرُونَ مِمَّا أَضْحَكُ؟ . قَالَ: قُلْنَا: اللہُ وَرَسُولُہُ أَعْلَمُ. قَالَ: مِنْ مُخَاطَبَةِ الْعَبْدِ رَبَّہُ يَقُولُ: يَا رَبِّ أَلَمْ تُجِرْنِي مِنَ الظُّلْمِ؟ قَالَ: يَقُولُ: بَلَی . قَالَ: فَيَقُولُ: فَإِنِّي لَا أُجِيزُ عَلَی نَفْسِي إِلَّا شَاہِدًا مِنِّي . قَالَ: فَيَقُولُ: كَفَی بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ شَہِيدًا وَبِالْكِرَامِ الْكَاتِبِينَ شُہُودًا . قَالَ: فَيُخْتَمُ عَلَی فِيہِ فَيُقَالُ لِأَرْكَانِہِ: انْطِقِي . قَالَ: ((فَتَنْطِقُ بِأَعْمَالِہِ ثُمَّ يُخَلَّی بَيْنَہُ وَبَيْنَ الْكَلَامِ)) . قَالَ: فَيَقُولُ: بُعْدًا لَكُنَّ وَسُحْقًا فعنكنَّ كنتُ أُناضلُ . رَوَاہُ مُسلم

انس ؓ بیان کرتے ہیں،ہم رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھے تو آپ ہنس دیے،آپ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’کیا تم جانتے ہو کہ میں کس وجہ سے ہنس رہا ہوں؟‘‘ انس ؓ بیان کرتے ہیں،ہم نے کہا: اللہ اور اس کے رسول بہتر جانتے ہیں،فرمایا: بندے کے اپنے رب سے مخاطب ہونے سے،وہ عرض کرے گا: رب جی! کیا آپ مجھے ظلم سے نہیں بچائیں گے؟‘‘ فرمایا:’’وہ (رب تعالیٰ) فرمائے گا: کیوں نہیں،ضرور۔‘‘ فرمایا:’’وہ عرض کرے گا: میں اپنے خلاف صرف اپنے نفس ہی کی گواہی قبول کروں گا،فرمایا:’’اللہ تعالیٰ فرمائے گا:’’آج تیرا نفس ہی تیرے خلاف گواہی دینے کے لیے کافی ہے۔اور لکھنے والے معزز فرشتے بھی گواہی کے لیے کافی ہیں۔‘‘ فرمایا:’’اس کے منہ پر مہر لگا دی جائے گی،اور اس کے اعضاء سے کہا جائے گا،کلام کرو۔‘‘ فرمایا:’’وہ اس کے اعمال کے متعلق بولیں گے،پھر اس (بندے) کے اور اس کی زبان کے درمیان سے پابندی اٹھا لی جائے گی۔‘‘ فرمایا:’’وہ (اپنی زبان سے بول کر) کہے گا: تمہارے لیے دوری ہو اور ہلاکت ہو،میں تو تمہاری ہی طرف سے جھگڑا تھا۔‘‘ رواہ مسلم۔