Sheikh Zubair Alizai

Mishkaat ul Masabeeh Hadith 5553 (مشکوۃ المصابیح)

[5553] رواہ البخاري (3339)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: يُجَاءُ بِنُوحٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُقَالُ لَہُ: ہَلْ بَلَّغْتَ؟ فَيَقُولُ: نَعَمْ يَا رَبِّ فَتُسْأَلُ أُمَّتُہُ: ہَلْ بَلَّغَكُمْ؟ فَيَقُولُونَ: مَا جَاءَنَا مِنْ نَذِيرٍ. فَيُقَالُ: مَنْ شُہُودُكَ؟ فَيَقُولُ: مُحَمَّدٌ وَأُمَّتُہُ . فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ: ((فيجاء بكم فتشہدون علی أنَّہ قد بلَّغَ)) ثُمَّ قَرَأَ رَسُولُ اللہِ ﷺ (وَكَذَلِكَ جَعَلْنَاكُمْ أُمَّةً وَسَطًا لِتَكُونُوا شُہَدَاءَ عَلَی النَّاسِ وَيَكُونَ الرَّسُولُ عَلَيْكُمْ شَہِيدا) رَوَاہُ البُخَارِيّ

ابوسعید ؓ بیان کرتے ہیں،رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’روزِ قیامت نوح ؑ کو لایا جائے گا تو ان سے کہا جائے گا: کیا آپ نے (اللہ تعالیٰ کے احکامات و تعلیمات) پہنچا دیے تھے؟ وہ کہیں گے: جی ہاں،میرے پروردگار! ان کی امت سے پوچھا جائے گا: کیا انہوں نے تمہیں اللہ تعالیٰ کے احکامات پہنچا دیے تھے؟ وہ کہیں گے: ہمارے پاس تو کوئی ڈرانے (آگاہ کرنے) والا آیا ہی نہیں۔ان سے کہا جائے گا: آپ کا گواہ کون ہے؟ وہ کہیں گے: محمد (صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم) اور ان کی اُمت۔‘‘ رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا:’’پھر تمہیں لایا جائے گا،تو تم گواہی دو گے کہ انہوں نے پہنچا دیا تھا۔‘‘ پھر رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ آیت تلاوت فرمائی:’’ہم نے اسی طرح تمہیں امت وسط بنایا تا کہ تم لوگوں پر گواہ ہو اور رسول اللہ تم پر گواہ ہوں۔‘‘ رواہ البخاری۔