Mishkaat ul Masabeeh Hadith 974 (مشکوۃ المصابیح)

[974] إسنادہ موضوع، رواہ البیھقي في شعب الإیمان (2395) ٭ فیہ نھشل بن سعید: کذاب، و فیہ علل أخری و لآیۃ الکرسي حدیث حسن عند النسائي فی الکبری (9928) و عمل الیوم واللیلۃ (100)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللہُ عَنْہُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ عَلَی أَعْوَاد الْمِنْبَرِ يَقُولُ: ((مَنْ قَرَأَ آيَةَ الْكُرْسِيِّ فِي دبر كل صَلَاة لم يمنعہُ من دُخُولَ الْجَنَّةِ إِلَّا الْمَوْتُ وَمَنْ قَرَأَہَا حِينَ يَأْخُذُ مَضْجَعَہُ آمَنَہُ اللہُ عَلَی دَارِہِ وَدَارِ جَارِہِ وَأَہْلِ دُوَيْرَاتٍ حَوْلَہُ)) . رَوَاہُ الْبَيْہَقِيُّ فِي شعب الْإِيمَان وَقَالَ إِسْنَادہ ضَعِيف

علی ؓ بیان کرتے ہیں،میں نے رسول اللہ صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو منبر کی سیڑھیوں پر فرماتے ہوئے سنا:’’جو شخص ہر نماز کے بعد آیۃ الکرسی پڑھتا ہے تو اس کو دخول جنت سے صرف موت روکے ہوئے ہے اور جو شخص سونے کے لیے اپنے بستر پر لیٹتے وقت اسے پڑھتا ہے تو اللہ اس کے گھر کو،اس کے پڑوسی کے گھر اور اس کے آس پاس کے گھر والوں کو امن عطا کر دیتا ہے۔‘‘ بیہقی فی شعب الایمان،اور انہوں نے کہا: اس کی سند ضعیف ہے۔اسنادہ موضوع۔