Sunan Al-Nasai Hadith 4689 (سنن النسائي)
[4689] إسنادہ ضعیف
ابو داود (3341)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ،قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ،قَالَ: حَدَّثَنَا الثَّوْرِيُّ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ الشَّعْبِيِّ،عَنْ سَمْعَانَ،عَنْ سَمُرَةَ قَالَ: كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَقَالَ: ((أَہَا ہُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ؟)) ثَلَاثًا،فَقَامَ رَجُلٌ،فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((مَا مَنَعَكَ فِي الْمَرَّتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ أَنْ لَا تَكُونَ أَجَبْتَنِي؟ أَمَا إِنِّي لَمْ أُنَوِّہْ بِكَ إِلَّا بِخَيْرٍ،إِنَّ فُلَانًا لِرَجُلٍ مِنْہُمْ مَاتَ مَأْسُورًا بِدَيْنِہِ))
حضرت سمرہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم نبی اکرمﷺ کے ساتھ ایک جنازے میں تھے۔آپ نے تین دفعہ فرمایا: ’’کیا یہاں فلاں خاندان کا کوئی فرد ہے؟‘‘ آخر ایک آدمی کھڑا ہوا۔آپ نے اسے فرمایا: ’’پہلی دو دفعہ تجھے کون سی چیز جواب دینے سے مانع تھی؟ میں نے تجھے ایک اچھے مقصد کے لیے بلایا تھا۔اس قبیلے کا فلاں شخص جو فوت ہوگیا تھا،وہ اپنے قرض کی وجہ سے گرفتار ہے۔‘‘