Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4690 (سنن النسائي)

[4690] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (2408)

زیاد بن عمرو وعمران بن حذیفۃ لم یوثقھما غیر ابن حبان۔

وحدیث ابن ماجہ (الأصل: 2409) وسندہ حسن یغني عنہ۔

انوار الصحیفہ ص 355

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ،قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ زِيَادِ بْنِ عَمْرِو بْنِ ہِنْدٍ،عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُذَيْفَةَ قَالَ: كَانَتْ مَيْمُونَةُ تَدَّانُ،وَتُكْثِرُ،فَقَالَ لَہَا أَہْلُہَا فِي ذَلِكَ وَلَامُوہَا،وَوَجَدُوا عَلَيْہَا،فَقَالَتْ: لَا أَتْرُكُ الدَّيْنَ وَقَدْ سَمِعْتُ خَلِيلِي وَصَفِيِّي صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَا مِنْ أَحَدٍ يَدَّانُ دَيْنًا فَعَلِمَ اللہُ أَنَّہُ يُرِيدُ قَضَاءَہُ إِلَّا أَدَّاہُ اللہُ عَنْہُ فِي الدُّنْيَا))

حضرت عمران بن حذیفہ سے روایت ہے کہ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا قرض لیا کرتی تھیں اور زیادہ لیا کرتی تھیں۔ان کے رشتہ داروں نے اس بارے میں ان پر اعتراض کیا،ملامت کی اور ناراض ہوئے۔وہ فرمانے لگیں: میں قرض لینا نہیں چھوڑوں گی کیونکہ میں نے اپنے پیارے محبوب خاوندﷺ کو فرماتے سنا ہے: ’’جو شخص بھی قرض لیتا ہے،جس کے بارے اللہ تعالیٰ کو علم ہو کہ وہ ادائیگی کی نیت رکھتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا ہی میں اس کا قرض اس کی طرف سے ادا کرا دے گا۔‘‘