Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4712 (سنن النسائي)

[4712]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ہَاشِمٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ،قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ،عَنْ ابْنِ شِہَابٍ،عَنْ أَبِي سَلَمَةَ،وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ أُنَاسٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: أَنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِي الْجَاہِلِيَّةِ،فَأَقَرَّہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ عَلَی مَا كَانَتْ عَلَيْہِ فِي الْجَاہِلِيَّةِ،وَقَضَی بِہَا بَيْنَ أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فِي قَتِيلٍ ادَّعَوْہُ عَلَی يَہُودِ خَيْبَرَ خَالَفَہُمَا مَعْمَرٌ

رسول اللہﷺ کے بہت سے صحابہ سے روایت ہے کہ قسامت جاہلیت میں رائج تھی۔پھر رسول اللہﷺ نے اسے اسی طرح برقرار رکھا جس طرح یہ جاہلیت میں تھی اور آپ نے ایک مقتول کے بارے میں قسامت کا فیصلہ بھی کیا تھا جس کے قتل کا الزام انصار نے خیبر کے یہودیوں پر لگایا تھا۔ معمر نے ان دونوں کی مخالفت کی ہے۔