Sunan Al-Nasai Hadith 4720 (سنن النسائي)
[4720]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَہَّابِ،قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَی بْنَ سَعِيدٍ،يَقُولُ: أَخْبَرَنِي بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ،عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ،أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ سَہْلٍ الْأَنْصَارِيَّ،وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ،خَرَجَا إِلَی خَيْبَرَ،فَتَفَرَّقَا فِي حَاجَتِہِمَا،فَقُتِلَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَہْلٍ الْأَنْصَارِيُّ،فَجَاءَ مُحَيِّصَةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ أَخُو الْمَقْتُولِ وَحُوَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودٍ حَتَّی أَتَوْا رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَذَہَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ،فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((الْكُبْرَ الْكُبْرَ)) فَتَكَلَّمَ مُحَيِّصَةُ وَحُوَيِّصَةُ،فَذَكَرُوا شَأْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَہْلٍ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((تَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا،فَتَسْتَحِقُّونَ قَاتِلَكُمْ؟)) قَالُوا: كَيْفَ نَحْلِفُ،وَلَمْ نَشْہَدْ،وَلَمْ نَحْضُرْ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((فَتُبَرِّئُكُمْ يَہُودُ بِخَمْسِينَ يَمِينًا)) قَالُوا: يَا رَسُولَ اللہِ،كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ؟ قَالَ: فَوَدَاہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: بُشَيْرٌ قَالَ لِي سَہْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ: لَقَدْ رَكَضَتْنِي فَرِيضَةٌ مِنْ تِلْكَ الْفَرَائِضِ فِي مِرْبَدٍ لَنَا
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود دونوں خیبر گئے۔وہاں وہ اپنے اپنے کام میں ادھر ادھر ہوگئے تو عبداللہ بن سہل انصاری قتل کر دیے گئے۔پھر محیصہ،مقتول کا بھائی عبدالرحمٰن اور حویصہ بن مسعود رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔عبدالرحمٰن بات شروع کرنے لگے تو نبی اکرمﷺ نے انھیں فرمایا: ’’بڑے کو پہلے بات کرنے دو۔‘‘ تو محیصہ اور حویصہ نے بات شروع کی اور عبداللہ بن سہل کے قتل کا واقعہ بیان کیا۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے قاتل کا مواخذہ کر سکتے ہو؟‘‘ وہ کہنے لگے: ہم کیسے قسمیں کھائیں ہم تو وہاں موجود نہیں تھے اور نہ ہم نے واقعہ دیکھا ہے؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر بری ہو جائیں گے۔‘‘ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم کافر لوگوں کی قسمیں کیسے قبول کریں! پھر رسول اللہﷺ نے اس کی دیت خود ادا فرما دی۔حضرت سہل نے فرمایا: ہمارے باڑے میں ان اونٹوں میں سے ایک اونٹنی نے مجھے لات بھی ماری تھی۔