Sunan Al-Nasai Hadith 4721 (سنن النسائي)
[4721]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ،عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ،عَنْ سَہْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ قَالَ: وُجِدَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَہْلٍ قَتِيلًا،فَجَاءَ أَخُوہُ وَعَمَّاہُ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ وَہُمَا عَمَّا عَبْدِ اللہِ بْنِ سَہْلٍ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَذَہَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ. فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((الْكُبْرَ الْكُبْرَ)) قَالَا: يَا رَسُولَ اللہِ،إِنَّا وَجَدْنَا عَبْدَ اللہِ بْنَ سَہْلٍ قَتِيلًا فِي قَلِيبٍ مِنْ بَعْضِ قُلُبِ خَيْبَرَ،فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَتَّہِمُونَ؟)) قَالُوا: نَتَّہِمُ الْيَہُودَ. قَالَ: ((أَفَتُقْسِمُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا أَنَّ الْيَہُودَ قَتَلَتْہُ؟)) قَالُوا: وَكَيْفَ نُقْسِمُ عَلَی مَا لَمْ نَرَ؟ قَالَ: ((فَتُبَرِّئُكُمُ الْيَہُودُ بِخَمْسِينَ أَنَّہُمْ لَمْ يَقْتُلُوہُ)) قَالُوا: وَكَيْفَ نَرْضَی بِأَيْمَانِہِمْ وَہُمْ مُشْرِكُونَ؟ فَوَدَاہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِہِ أَرْسَلَہُ مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ
حضرت سہل بن ابی حثمہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا: حضرت عبداللہ بن سہل مقتول پائے گئے۔ان کا بھائی اور اس کے دو چچے حویصہ اور محیصہ،اور وہ دونوں عبداللہ بن سہل کے بھی چچے تھے،رسول اللہﷺ کی خدمت میں پیش ہوئے۔(ان کا بھائی) عبدالرحمٰن بات کرنے لگا تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’بڑے کو بات کرنے دو۔‘‘ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم نے عبداللہ بن سہل کو خیبر کے ایک کنویں میں مقتول پایا ہے۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’تم کن پر الزام لگاتے ہو؟‘‘ انھوں نے کہا: ہم یہودیوں پر الزام لگاتے ہیں۔آپﷺ نے فرمایا: ’’تم پچاس قسمیں کھاتے ہو کہ یہودیوں نے اسے قتل کیا ہے؟‘‘ وہ کہنے لگے: ہم ایسی چیز کی قسم کیسے کھا سکتے ہیں جو ہم نے نہیں دیکھی؟ آپﷺ نے فرمایا: ’’پھر یہودی پچاس قسمیں کھا کر کہ ہم نے اسے قتل نہیں کیا،بری ہو جائیں گے۔‘‘ وہ کہنے لگے: ہم ان مشرکوں کی قسمیں کیسے تسلیم کر لیں؟ تو رسول اللہﷺ نے دیت اپنی طرف سے ادا فرما دی۔ مالک بن انس نے یہ روایت مرسل بیان کی ہے۔