Sunan Al-Nasai Hadith 4722 (سنن النسائي)
[4722]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
قَالَ الْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْہِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ،حَدَّثَنِي مَالِكٌ،عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ،عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ،أَنَّہُ أَخْبَرَہُ،أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ سَہْلٍ الْأَنْصَارِيَّ وَمُحَيِّصَةَ بْنَ مَسْعُودٍ خَرَجَا إِلَی خَيْبَرَ،فَتَفَرَّقَا فِي حَوَائِجِہِمَا،فَقُتِلَ عَبْدُ اللہِ بْنُ سَہْلٍ،فَقَدِمَ مُحَيِّصَةُ،فَأَتَی ہُوَ وَأَخُوہُ حُوَيِّصَةُ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَہْلٍ إِلَی رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،فَذَہَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ لِيَتَكَلَّمَ لِمَكَانِہِ مِنْ أَخِيہِ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((كَبِّرْ كَبِّرْ)) فَتَكَلَّمَ حُوَيِّصَةُ وَمُحَيِّصَةُ،فَذَكَرُوا شَأْنَ عَبْدِ اللہِ بْنِ سَہْلٍ،فَقَالَ لَہُمْ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ يَمِينًا،وَتَسْتَحِقُّونَ دَمَ صَاحِبِكُمْ أَوْ قَاتِلِكُمْ؟)) قَالَ مَالِكٌ: قَالَ يَحْيَی: فَزَعَمَ بُشَيْرٌ،أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَدَاہُ مِنْ عِنْدِہِ ((خَالَفَہُمْ سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ))
حضرت بشیر بن یسار نے بتایا کہ عبداللہ بن سہل انصاری اور محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خیبر گئے اور اپنے اپنے کاموں میں ادھر ادھر ہوگئے تو عبداللہ بن سہل قتل کر دیے گئے۔محیصہ مدینہ منورہ آئے اور اپنے بھائی حویصہ اور (مقتول کے بھائی) عبدالرحمٰن بن سہل سمیت رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے (مقتول عبداللہ کے) بھائی ہونے کی وجہ سے عبدالرحمٰن بات کرنے لگے تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’بڑے کو پہلے بات کرنے دو۔‘‘ پھر حویصہ اور محیصہ نے آپ سے بات چیت کی اور عبداللہ بن سہل کا مسئلہ پیش کیا۔رسول اللہﷺ نے ان سے فرمایا: ’’تم پچاس قسمیں کھا کر اپنے مقتول کے خون یا اپنے قاتل کے مستحق بنتے ہو‘‘