Sunan Al-Nasai Hadith 4724 (سنن النسائي)
[4724]إسنادہ حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ،قَالَ: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللہِ بْنُ الْأَخْنَسِ،عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ،أَنَّ ابْنَ مُحَيِّصَةَ الْأَصْغَرَ أَصْبَحَ قَتِيلًا عَلَی أَبْوَابِ خَيْبَرَ،فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((أَقِمْ شَاہِدَيْنِ عَلَی مَنْ قَتَلَہُ،أَدْفَعْہُ إِلَيْكُمْ بِرُمَّتِہِ)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ،وَمِنْ أَيْنَ أُصِيبُ شَاہِدَيْنِ،وَإِنَّمَا أَصْبَحَ قَتِيلًا عَلَی أَبْوَابِہِمْ؟ قَالَ: ((فَتَحْلِفُ خَمْسِينَ قَسَامَةً)) قَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ،وَكَيْفَ أَحْلِفُ عَلَی مَا لَا أَعْلَمُ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((فَنَسْتَحْلِفُ مِنْہُمْ خَمْسِينَ قَسَامَةً)) فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللہِ،كَيْفَ نَسْتَحْلِفُہُمْ وَہُمُ الْيَہُودُ؟ فَقَسَمَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ دِيَتَہُ عَلَيْہِمْ وَأَعَانَہُمْ بِنِصْفِہَا
حضرت عمرو بن شعیب کے پردادا محترم (حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ محیصہ کا چھوٹا بیٹا خیبر کے دروازوں پر مقتول پایا گیا۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’اس کے قاتل کے دو عینی گواہ لاؤ،میں اسے اس کی رسی سمیت (گرفتار کر کے) تیرے سپرد کر دوں گا۔‘‘ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں دو گواہ کہاں سے لاؤں؟ وہ تو ان یہودیوں کے دروازوں کے سامنے مارا گیا ہے۔آپ نے فرمایا: ’’اچھا تو قسامت کی پچاس (قسمیں) کھا لے۔‘‘ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں اس بات پر کس طرح قسمیں کھاؤں جو میں جانتا نہیں؟ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’پھر تم ان سے قسامت کی پچاس قسمیں لے لو۔‘‘ وہ کہنے لگا: اے اللہ کے رسول! ہم ان سے کیسے قسمیں لیں،وہ تو یہودی ہیں (جھوٹے مشہور ہیں)؟ پھر رسول اللہﷺ نے اس کی دیت یہودیوں پر تقسیم کر دی اور نصف دیت میں آپ نے ان سے تعاون فرمایا۔