Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4775 (سنن النسائي)

[4775]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا إِسْحَقُ بْنُ إِبْرَاہِيمَ،قَالَ: أَنْبَأَنَا مُعَاذُ بْنُ ہِشَامٍ،قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي،عَنْ قَتَادَةَ،عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ،عَنْ عَطَاءٍ،عَنْ صَفْوَانَ بْنِ يَعْلَی ابْنِ مُنْيَةَ: أَنَّ أَجِيرًا لِيَعْلَی ابْنِ مُنْيَةَ عَضَّ آخَرُ ذِرَاعَہُ،فَانْتَزَعَہَا مِنْ فِيہِ،فَرَفَعَ ذَلِكَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ،وَقَدْ سَقَطَتْ ثَنِيَّتُہُ،فَأَبْطَلَہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ: ((أَيَدَعُہَا فِي فِيكَ تَقْضَمُہَا كَقَضْمِ الْفَحْلِ؟))

حضرت صفوان بن یعلی ابن منیہ سے روایت ہے کہ میرے والد حضرت یعلی ابن منیہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ایک نوکر کے بازو پر ایک دوسرے شخص نے دانت گاڑ دیے۔اس نے اپنا ہاتھ اس کے منہ سے کھینچا تو اس کا دانت گر گیا۔یہ مقدمہ نبی اکرمﷺ کے پاس پیش ہوا تو آپ نے اس دانت کا کوئی معاوضہ نہ دلوایا بلکہ فرمایا: ’’کیا وہ اپنا ہاتھ تیرے منہ میں رکھ چھوڑتا کہ تو اسے اونٹ کی طرح چباتا رہتا۔‘‘