Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4777 (سنن النسائي)

[4777] إسنادہ ضعیف

ابو داود (4536)

انوار الصحیفہ ص 356

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا وَہْبُ بْنُ بَيَانٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَہْبٍ،قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ،عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللہِ،عَنْ عَبِيدَةَ بْنِ مُسَافِعٍ،عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: بَيْنَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ يَقْسِمُ شَيْئًا،أَقْبَلَ رَجُلٌ فَأَكَبَّ عَلَيْہِ فَطَعَنَہُ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِعُرْجُونٍ كَانَ مَعَہُ،فَخَرَجَ الرَّجُلُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((تَعَالَ فَاسْتَقِدْ))،قَالَ: بَلْ قَدْ عَفَوْتُ يَا رَسُولَ اللہِ

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: ایک دفعہ رسول اللہﷺ کوئی چیز تقسیم فرما رہے تھے کہ ایک آدمی آیا۔اور (بے صبری میں) آپ پر اوندھا ہی ہوگیا۔آپ نے اپنے ہاتھ میں پکڑی ہوئی چھڑی کی نوک اس کو مار دی۔وہ آدمی (حلقہ سے) نکل گیا۔رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’بھائی! ادھر آ اور بدلہ لے لے۔‘‘ اس نے کہا: (نہیں) بلکہ میں نے معاف کر دیا۔