Sunan Al-Nasai Hadith 4793 (سنن النسائي)
[4793]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا ہِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ بْنِ ہِلَالٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ،قَالَ: أَنْبَأَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ كَثِيرٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ،عَنْ طَاوُسٍ،عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ قُتِلَ فِي عِمِّيَّا أَوْ رِمِّيَّا تَكُونُ بَيْنَہُمْ بِحَجَرٍ أَوْ سَوْطٍ أَوْ بِعَصًا فَعَقْلُہُ عَقْلُ خَطَإٍ،وَمَنْ قَتَلَ عَمْدًا فَقَوَدُ يَدِہِ،فَمَنْ حَالَ بَيْنَہُ وَبَيْنَہُ فَعَلَيْہِ لَعْنَةُ اللہِ وَالْمَلَائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ،لَا يُقْبَلُ مِنْہُ صَرْفٌ وَلَا عَدْلٌ))
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اندھا دھند لڑائی جھگڑے (بلوے اور ہنگامے) میں مارا جائے جس میں پتھر،کوڑے یا لاٹھی کا عام استعمال ہوا تو اس کی دیت قتل خطا کی دیت ہوگی۔اور جس شخص کو جان بوجھ کر قتل کیا جائے،اس کا قصاص لیا جائے گا۔جو شخص قصاص میں رکاوٹ بنے،س پر اللہ تعالیٰ کی فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے۔نہ اس کا فرض قبول نہ نفل۔‘‘