Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4826 (سنن النسائي)

[4826]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ،قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ الْخُزَاعِيِّ،عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ قَالَ: ضَرَبَتِ امْرَأَةٌ ضَرَّتَہَا بِعَمُودِ الْفُسْطَاطِ وَہِيَ حُبْلَی فَقَتَلَتْہَا،فَجَعَلَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ دِيَةَ الْمَقْتُولَةِ عَلَی عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ،وَغُرَّةً لِمَا فِي بَطْنِہَا،فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ: أَنَغْرَمُ دِيَةَ مَنْ لَا أَكَلْ،وَلَا شَرِبَ،وَلَا اسْتَہَلَّ،فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ: ((أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الْأَعْرَابِ؟)) فَجَعَلَ عَلَيْہِمُ الدِّيَةَ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے،انھوں نے فرمایا: ایک عورت نے اپنی سوکن کو خیمے کا ستون کھینچ مارا جب کہ وہ حاملہ تھی،وہ مر گئی۔رسول اللہﷺ نے مقتولہ کی دیت قاتلہ کے قریبی نسبی رشتہ داروں پر ڈال دی۔اور مقتولہ کے پیٹ کے بچے کی دیت میں ایک غرہ لازم کیا۔قاتلہ کے رشتہ داروں میں سے ایک شخص کہنے لگا: کیا ہم ایسے بچے کی دیت بھریں جس نے کھایا نہ پیا اور نہ چوں کی؟ ایسا بچہ تو ضائع اور لغو ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا: ’’کیا اعرابیوں جیسی مسجع ومقفیٰ کلام بولتے ہو؟‘‘ پھر ان پر دیت لاگو کی۔