Sunan Al-Nasai Hadith 4827 (سنن النسائي)
[4827]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ،قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ،عَنْ مَنْصُورٍ،عَنْ إِبْرَاہِيمَ،عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نُضَيْلَةَ،عَنْ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ: أَنَّ ضَرَّتَيْنِ ضَرَبَتْ إِحْدَاہُمَا الْأُخْرَی بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ،فَقَتَلَتْہَا،فَقَضَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ بِالدِّيَةِ عَلَی عَصَبَةِ الْقَاتِلَةِ،وَقَضَی لِمَا فِي بَطْنِہَا بِغُرَّةٍ،فَقَالَ الْأَعْرَابِيُّ: تُغَرِّمُنِي مَنْ لَا أَكَلْ،وَلَا شَرِبَ،وَلَا صَاحَ فَاسْتَہَلَّ،فَمِثْلُ ذَلِكَ يُطَلَّ؟ فَقَالَ: ((سَجْعٌ كَسَجْعِ الْجَاہِلِيَّةِ؟)) وَقَضَی لِمَا فِي بَطْنِہَا بِغُرَّةٍ
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ دو سوکنوں میں سے ایک نے دوسری کو خیمہ کی لکڑی دے ماری اور اسے قتل کر دیا۔رسول اللہﷺ نے دیت قاتلہ کے نسبی رشتہ داروں پر ڈال دی اور مقتولہ کے پیٹ کے بچے کی دیت غرہ قرار دی۔اعرابی کہنے لگا: آپ مجھ پر ایسے بچے کی دیت ڈال رہے ہیں جس نے نہ کھایا نہ پیا،نہ چیخا نہ چلایا؟ ایسا بچہ تو ضائع اور لغو ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا: ’’زمانہ جاہلیت جیسی مسجع ومقفیٰ گفتگو ہے۔‘‘ آپ نے پیٹ کے بچے کی دیت غرہ مقرر فرمائی۔