Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4857 (سنن النسائي)

[4857] إسنادہ ضعیف

سلیمان بن داود صوابہ سلیمان بن أرقم،انظر الحدیث الآتي (4858)

انوار الصحیفہ ص 357

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ،قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَی،قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ حَمْزَةَ،عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ،قَالَ: حَدَّثَنِي الزُّہْرِيُّ،عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ: أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَی أَہْلِ الْيَمَنِ كِتَابًا فِيہِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ وَالدِّيَاتُ،وَبَعَثَ بِہِ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ،فَقُرِأتْ عَلَی أَہْلِ الْيَمَنِ ہَذِہِ نُسْخَتُہَا: ((مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ صَلَّی اللہُ عَلَيْہِ وَسَلَّمَ إِلَی شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ،وَنُعَيْمِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ،وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ قَيْلِ ذِيِ رُعَيْنٍ وَمَعَافِرَ وَہَمْدَانَ أَمَّا بَعْدُ))،وَكَانَ فِي كِتَابِہِ ((أَنَّ مَنْ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ،فَإِنَّہُ قَوَدٌ إِلَّا أَنْ يَرْضَی أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ،وَأَنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةَ مِائَةً مِنَ الْإِبِلِ،وَفِي الْأَنْفِ إِذَا أُوعِبَ جَدْعُہُ الدِّيَةُ وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ،وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ،وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ،وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدَةِ نِصْفُ الدِّيَةِ،وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ،وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ،وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ،وَفِي كُلِّ أُصْبُعٍ مِنْ أَصَابِعِ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ،وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ،وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ،وَأَنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ وَعَلَی أَہْلِ الذَّہَبِ أَلْفُ دِينَارٍ))،((خَالَفَہُ مُحَمَّدُ بْنُ بَكَّارِ بْنِ بِلَالٍ))

حضرت عمرو بن حزم رضی اللہ تعالٰی عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے یمن والوں کی طرف ایک تحریر لکھوا کر بھیجی جس میں فرائض وسنن اور دیت کے مسائل تھے۔آپ نے وہ تحریر عمرو بن حزم کے ہاتھ بھیجی تھی۔وہ اہل یمن کو پڑھ کر سنائی گئی۔اس کی عبارت یوں تھی: ’’یہ تحریر نبی اکرم محمدﷺ کی طرف سے شرحبیل بن عبد کلال،نعیم بن عبد کلال اور حارث بن عبد کلال کی طرف ہے،جو ذو رعین،معافر اور ہمدان کے سردار ہیں۔امابعد! (اس تحریر میں بہت سی باتیں تھیں) اس تحریر میں یہ بات بھی تھی کہ جو شخص کسی مومن کو بے گناہ قتل کر دے اور گواہ موجود ہوں تو اس کو قصاصاً قتل کر دیا جائے گا الایہ کہ مقتول کے ورثاء راضی ہو جائیں۔اور ہر انسانی جان کی دیت سو اونٹ ہے۔اگر پوری ناک کاٹ دی جائے تو اس میں مکمل دیت (سو اونٹ) ہوگی۔زبان پوری کاٹ دی جائے تو اس میں بھی پوری دیت ہوگی۔دونوں ہونٹ کاٹے جانے کی صورت میں بھی پوری دیت ہو گی۔خصیتین مکمل کاٹ دیے جائیں تو پوری دیت ہو گی۔ذکر پورا کاٹ دیا جائے تو پوری دیت ہوگی۔کمر (ریڑھ) کی ہڈی توڑ دی جائے تو پوری دیت ہوگی۔دونوں آنکھیں پھوڑ یا نکال دی جائیں تو پوری دیت ہو گی۔ایک پاؤں کی نصف دیت ہوگی۔دماغ تک پہنچ جانے والے زخم میں تہائی دیت ہوگی۔پیٹ کے اندر تک پہنچ جانے والے زخم میں تہائی دیت ہوگی۔ہڈی کو توڑ دینے والے زخم کی دیت پندرہ اونٹ ہوں گے۔ہاتھ پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی کی دیت دس اونٹ ہوگی۔ہر دانت کی دیت پانچ اونٹ ہوگی۔ہدی کو ننگا کرنے والے زخم کی دیت پانچ اونٹ ہوگی۔آدمی عورت کو قتل کرے تو اسے قتل کر دیا جائے گا۔اگر کوئی شخص سونے کی صورت میں دیت دینا چاہے تو دیت ایک ہزار دینار ہوگی۔محمد بن بکار بن بلال نے حکم بن موسیٰ کی مخالفت کی ہے۔