Sunan Al-Nasai Hadith 4885 (سنن النسائي)
[4885]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنِي ہِلَالُ بْنُ الْعَلَاءِ قَالَ حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ قَالَ حَدَّثَنَا زُہَيْرٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ہُوَ ابْنُ أَبِي بَشِيرٍ قَالَ حَدَّثَنِي عِكْرِمَةُ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ أَنَّہُ طَافَ بِالْبَيْتِ وَصَلَّی ثُمَّ لَفَّ رِدَاءً لَہُ مِنْ بُرْدٍ فَوَضَعَہُ تَحْتَ رَأْسِہِ فَنَامَ فَأَتَاہُ لِصٌّ فَاسْتَلَّہُ مِنْ تَحْتِ رَأْسِہِ فَأَخَذَہُ فَأَتَی بِہِ النَّبِيَّ ﷺ فَقَالَ إِنَّ ہَذَا سَرَقَ رِدَائِي فَقَالَ لَہُ النَّبِيُّ ﷺ أَسَرَقْتَ رِدَاءَ ہَذَا قَالَ نَعَمْ قَالَ اذْہَبَا بِہِ فَاقْطَعَا يَدَہُ قَالَ صَفْوَانُ مَا كُنْتُ أُرِيدُ أَنْ تُقْطَعَ يَدُہُ فِي رِدَائِي فَقَالَ لَہُ فَلَوْ مَا قَبْلَ ہَذَا خَالَفَہُ أَشْعَثُ بْنُ سَوَّارٍ
حضرت صفوا ن بن امیہؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر نماز پڑھی پھر اپنی چادر تہہ کر کے اپنے سر کے نیچے رکھ لی اور سو گئے۔ایک چور آیا اور اس نے وہ چادر ان کے سر کے نیچے سے کھسکا لی۔انہوں نے اسے پکڑ لیا اور نبی اکرمﷺ کے پاس لے آئے اور کہا: اس نے میری چادر چرائی ہے۔نبی اکرمﷺ نے اس سے پوچھا: ’’تو نے اس کی چادر چرائی ہے؟‘‘ اس نے کہا: جی ہاں۔آپ نے (دو آدمیوں کو) حکم دیا: ’’اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو۔‘‘ صفوان نے کہا: میرا یہ مقصد نہیں تھا کہ آپ میری چادر کی بنا پر اس کا ہاتھ کاٹ دیں۔آپ نے فرمایا: ’’اس سے پہلے کیوں (معاف) نہ کیا۔‘‘ اشعث بن سوار نے اس کی مخالفت کی ہے۔