Sunan Al-Nasai Hadith 4887 (سنن النسائي)
[4887]حسن
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ حَكِيمٍ قَالَ حَدَّثَنَا عَمْرٌو عَنْ أَسْبَاطٍ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ حُمَيْدٍ ابْنِ أُخْتِ صَفْوَانَ عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ قَالَ كُنْتُ نَائِمًا فِي الْمَسْجِدِ عَلَی خَمِيصَةٍ لِي ثَمَنُہَا ثَلَاثُونَ دِرْہَمًا فَجَاءَ رَجُلٌ فَاخْتَلَسَہَا مِنِّي فَأُخِذَ الرَّجُلُ فَأُتِيَ بِہِ النَّبِيُّ ﷺ فَأَمَرَ بِہِ لِيُقْطَعَ فَأَتَيْتُہُ فَقُلْتُ أَتَقْطَعُہُ مِنْ أَجْلِ ثَلَاثِينَ دِرْہَمًا أَنَا أَبِيعُہُ وَأُنْسِئُہُ ثَمَنَہَا قَالَ فَہَلَّا كَانَ ہَذَا قَبْلَ أَنْ تَأْتِيَنِي بِہِ
حضرت صفوان بن امیہ ؓ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: میں مسجد میں اپنی منقش (دھاری دار) چادر پر سویا ہو اتھا جس کی قیمت تیس درہم تھی۔ایک ٖآدمی آیا اور اسے کھسکا لے گیا۔وہ آدمی پکڑا گیا اور نبی اکرمﷺ کے پاس لایا گیا۔آپ نے اس کا ہاتھ کاٹنے کا حکم دے دیا۔میں آپ کے پاس آیا اور عرض کی: آپ صرف تیس درہم کے بدلے اس کا ہاتھ کاٹ رہے ہیں؟ میں یہ چادر اس کو بیچ دیتا ہوں۔قیمت اس سے بعد میں لے لوں گا۔آپ نے فرمایا: ’’یہ سب کچھ میرے پاس مقدمہ لانے سے پہلے کیوں نہ کیا؟‘‘