Sunan Al-Nasai Hadith 4904 (سنن النسائي)
[4904]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْجَوَّابِ قَالَ حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ إِسْمَعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُسْلِمٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سَرَقَتْ امْرَأَةٌ مِنْ قُرَيْشٍ مِنْ بَنِي مَخْزُومٍ فَأُتِيَ بِہَا النَّبِيُّ ﷺ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُہُ فِيہَا قَالُوا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ فَأَتَاہُ فَكَلَّمَہُ فَزَبَرَہُ وَقَالَ إِنَّ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيہِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوہُ وَإِذَا سَرَقَ الْوَضِيعُ قَطَعُوہُ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُہَا
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: قریش کے ایک قبیلے بنو مخزوم کی ایک عورت نے چوری کرلی۔اسے پکڑ کر نبی اکرمﷺ کے پاس لایا گیا۔اس کے رشتے دار کہنے لگے کہ کون اس کی سفارش کرسکتا ہے؟ کچھ لوگ کہنے لگے: حضرت اسامہؓ یہ کام کرسکتے ہیں۔اسامہ آپ کے پاس آئے اور اس عورت کی سفارش کی۔آپ نے انہیں ڈانٹا اور فرمایا: ’’بنی اسرائیل کا حال یہ تھا کہ جب ان کا کوئی بلند مرتبہ شخص چوری کرتا تھا تو اسے چھوڑ دیتے۔(کچھ نہیں کہتے تھے۔) اور جب کوئی کم مرتبہ شخص چوری کرلیتا تھا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد (ﷺ) کی جان ہے! اگر (میری بیٹی) فاطمہ بنت محمد چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘