Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 4903 (سنن النسائي)

[4903]متفق علیہ

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ شِہَابٍ عَنْ عُرْوَةَ عَنْ عَائِشَةَ أَنَّ قُرَيْشًا أَہَمَّہُمْ شَأْنُ الْمَخْزُومِيَّةِ الَّتِي سَرَقَتْ فَقَالُوا مَنْ يُكَلِّمُ فِيہَا رَسُولَ اللہِ ﷺ قَالُوا وَمَنْ يَجْتَرِئُ عَلَيْہِ إِلَّا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ حِبُّ رَسُولِ اللہِ ﷺ فَكَلَّمَہُ أُسَامَةُ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ أَتَشْفَعُ فِي حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللہِ ثُمَّ قَامَ فَخَطَبَ فَقَالَ إِنَّمَا ہَلَكَ الَّذِينَ قَبْلَكُمْ أَنَّہُمْ كَانُوا إِذَا سَرَقَ فِيہِمْ الشَّرِيفُ تَرَكُوہُ وَإِذَا سَرَقَ فِيہِمْ الضَّعِيفُ أَقَامُوا عَلَيْہِ الْحَدَّ وَايْمُ اللہِ لَوْ أَنَّ فَاطِمَةَ بِنْتَ مُحَمَّدٍ سَرَقَتْ لَقَطَعْتُ يَدَہَا

حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک مخزومی عورت جس نے چوری کی تھی،کی وجہ سے قریش بڑے فکر مندہوئے۔وہ کہنے لگے: اس کی سفارش رسول اللہ ﷺ سے کون کرے گا؟ پھر (خود ہی) کہنے لگے: اس کی جرات رسول اللہ ﷺ کے محبوب اسامہ بن زید رضی اللہ عنہما کے سوا کون کرسکتا ہے! حضرت اسامہ نے آپ سے اس کی سفارش کی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’تو اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود میں اسے ایک حد (کو نافذ نہ کرنے) کی بابت سفارش کررہا ہے؟‘‘ پھر آپ کھڑے ہوئے اور خطاب کرتے ہوئے فرمایا: ’’تم لوگوں سے پہلے لوگ اسی بنا پر ہلاک ہوئے کہ جب ان میں سے کوئی بلند مرتبہ شخص چوری کرلیتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور جب کوئی کمزور شخص چوری کرلیتا تو اس کو حد لگا دیتے۔اللہ کی قسم! اگر (بالفرض) محمد (ﷺ) کی بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تو میں اس کا بھی ہاتھ کاٹ دیتا۔‘‘