Sunan Al-Nasai Hadith 4994 (سنن النسائي)
[4994]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ قُدَامَةَ عَنْ جَرِيرٍ عَنْ أَبِي فَرْوَةَ عَنْ أَبِي زُرْعَةَ عَنْ أَبِي ہُرَيْرَةَ وَأَبِي ذَرٍّ قَالَا كَانَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يَجْلِسُ بَيْنَ ظَہْرَانَيْ أَصْحَابِہِ فَيَجِيءُ الْغَرِيبُ فَلَا يَدْرِي أَيُّہُمْ ہُوَ حَتَّی يَسْأَلَ فَطَلَبْنَا إِلَی رَسُولِ اللہِ ﷺ أَنْ نَجْعَلَ لَہُ مَجْلِسًا يَعْرِفُہُ الْغَرِيبُ إِذَا أَتَاہُ فَبَنَيْنَا لَہُ دُكَّانًا مِنْ طِينٍ كَانَ يَجْلِسُ عَلَيْہِ وَإِنَّا لَجُلُوسٌ وَرَسُولُ اللہِ ﷺ فِي مَجْلِسِہِ إِذْ أَقْبَلَ رَجُلٌ أَحْسَنُ النَّاسِ وَجْہًا وَأَطْيَبُ النَّاسِ رِيحًا كَأَنَّ ثِيَابَہُ لَمْ يَمَسَّہَا دَنَسٌ حَتَّی سَلَّمَ فِي طَرَفِ الْبِسَاطِ فَقَالَ السَّلَامُ عَلَيْكَ يَا مُحَمَّدُ فَرَدَّ عَلَيْہِ السَّلَامُ قَالَ أَدْنُو يَا مُحَمَّدُ قَالَ ادْنُہْ فَمَا زَالَ يَقُولُ أَدْنُو مِرَارًا وَيَقُولُ لَہُ ادْنُ حَتَّی وَضَعَ يَدَہُ عَلَی رُكْبَتَيْ رَسُولِ اللہِ ﷺ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَا الْإِسْلَامُ قَالَ الْإِسْلَامُ أَنْ تَعْبُدَ اللہَ وَلَا تُشْرِكَ بِہِ شَيْئًا وَتُقِيمَ الصَّلَاةَ وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ وَتَحُجَّ الْبَيْتَ وَتَصُومَ رَمَضَانَ قَالَ إِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ أَسْلَمْتُ قَالَ نَعَمْ قَالَ صَدَقْتَ فَلَمَّا سَمِعْنَا قَوْلَ الرَّجُلِ صَدَقْتَ أَنْكَرْنَاہُ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَا الْإِيمَانُ قَالَ الْإِيمَانُ بِاللہِ وَمَلَائِكَتِہِ وَالْكِتَابِ وَالنَّبِيِّينَ وَتُؤْمِنُ بِالْقَدَرِ قَالَ فَإِذَا فَعَلْتُ ذَلِكَ فَقَدْ آمَنْتُ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ نَعَمْ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَا الْإِحْسَانُ قَالَ أَنْ تَعْبُدَ اللہَ كَأَنَّكَ تَرَاہُ فَإِنْ لَمْ تَكُنْ تَرَاہُ فَإِنَّہُ يَرَاكَ قَالَ صَدَقْتَ قَالَ يَا مُحَمَّدُ أَخْبِرْنِي مَتَی السَّاعَةُ قَالَ فَنَكَسَ فَلَمْ يُجِبْہُ شَيْئًا ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُجِبْہُ شَيْئًا ثُمَّ أَعَادَ فَلَمْ يُجِبْہُ شَيْئًا وَرَفَعَ رَأْسَہُ فَقَالَ مَا الْمَسْئُولُ عَنْہَا بِأَعْلَمَ مِنْ السَّائِلِ وَلَكِنْ لَہَا عَلَامَاتٌ تُعْرَفُ بِہَا إِذَا رَأَيْتَ الرِّعَاءَ الْبُہُمَ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبُنْيَانِ وَرَأَيْتَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ مُلُوكَ الْأَرْضِ وَرَأَيْتَ الْمَرْأَةَ تَلِدُ رَبَّہَا خَمْسٌ لَا يَعْلَمُہَا إِلَّا اللہُ إِنَّ اللہَ عِنْدَہُ عِلْمُ السَّاعَةِ إِلَی قَوْلِہِ إِنَّ اللہَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ ثُمَّ قَالَ لَا وَالَّذِي بَعَثَ مُحَمَّدًا بِالْحَقِّ ہُدًی وَبَشِيرًا مَا كُنْتُ بِأَعْلَمَ بِہِ مِنْ رَجُلٍ مِنْكُمْ وَإِنَّہُ لَجِبْرِيلُ عَلَيْہِ السَّلَام نَزَلَ فِي صُورَةِ دِحْيَةَ الْكَلْبِيِّ
حضرت ابو ہریرہ ؓاور حضرت ابو در ؓنے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ اپنے صحابہ میں اس طرح تشریف فرماہوتےتھے کہ کوئی اجنبی آدمی آتا تووہ نہیں پہچان سکتا تھا کہ آپ کون سے ہیں حتی ٰ کہ وہ (آپ کی بابت) پوچھتا،اس لیے ہم نے رسول اللہ ﷺ سے اجازت طلب کی ہم آپ کے بیٹھنے کے لیے مخصوص جگہ بنا دیں تاکہ اجنبی آدمی آئے تو وہ بھی آپ کو پہچان سکے۔اجازت ملنے پر ہم نے آپ کے لیے مٹی ایک تھڑا بنا دیا۔آپ اس پر تشریف فرماتے ہوتے تھے۔ایک دفعہ ہم بیٹھے تھے اور رسول اللہ ﷺ بھی اپنے مخصوص مقام پر تشریف فرماتھے کہ ایک انتہائی خوب صورت اور خوشبو میں بسا ہو ا ایک آدمی آیا۔اس کے کپڑوں کو ہلکاسا میل کچیل بھی نہیں لگا تھا حتیٰ کہ اس نے نیچے بچھی ہوئی چٹائی کے کنارے کےپاس آکر سلام کہا اور کہا: اے محمد!السلام علیکم! آپ علیہ السلام نے اسے جواب دیا۔اس نے کہا: اے محمد! میں قریب آسکتا ہوں؟ آپ نے فرمایا:’’قریب آجاؤ۔،،وہ بار بار اسی طرح کہتا رہا: اور قریب آجاؤں؟ اور آپ نے فرماتے رہے: ’’قریب آجاؤ۔،،حتی ٰ کہ اس نے اپنا ہاتھ رسول اللہ ﷺ کے مبارک گھٹنوں پر رکھ دیا اور کہا: اے محمد!مجھے بتائیے: اسلام کیا ہے؟ آپ نے فرمایا،’’اسلام یہ ہے کہ تو خالص اللہ تعالی کی عبادت کر اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ سمجھے،نماز قائم کر ے،اور زکاۃ اداکرے،بیت اللہ کا حج کرے اور رمضان المبارک کے روزے رکھے۔،،اس نے کہا: جب میں یہ کام کرلوں تو کیا میں مسلمان ہوگیا؟ آپ نے فرمایا:’’ہاں۔،،اسنے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔جب ہم نے اس شخص کی یہ بات سنی تو ہم نے اس پر تعجب کیا (پوچھتا بھی ہے اور تصدیق بھی کرتا ہے۔) پھر اس نے کہا: اے محمد فرمائے ایمان کیا ہے؟ آپ نے فرمایا: ’’ایمان یہ ہے کہ تو اللہ تعالی،اس کے فرشتوں،کتابوں،نبیوں اور تقدیر کو دل وجان سے تسلیم کرے لے۔،،اس نے کہا: جب میں یہ کام کرلوں گا تو کیامیں مومن ہ کیا؟ آپنے فرمایا: ’’ہاں۔،،اسنے کہا: آپ نے سچ فرمایا۔پھر کہنے لگا: اے محمد! بتلائیے: احسان کیا ہے؟ آپنے فرمایا: ’’احسان یہ ہے کہ تو اللہ تعالی کی عبادت اس طرح کرے گویا تواللہ تعالیٰ کو دیکھ رہا ہے۔اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔اگر تو اسے نہیں دیکھتا تو وہ تجھے دیکھ رہا ہے۔،،وہ کہنے لگا: آپ نے سچ فرمایا۔پھر وہ کہنے لگا:اے محمد! مجھے بتائیے:قیامت کب آئے گی؟ آپ نے سرجھکا لیا اور اسے کچھ جواب نہ دیا۔اس نے دوبارہ پھر وہی سوال کیا۔آپ نے پھر کوئی جواب نہ دیا۔اس نے تیسری دفعہ پھر وہی سوال کیا۔آپ نے پھر بھی کوئی جواب نہ دیا۔پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا: ’’جس شخص سے قیامت کے بارے میں پوچھا گیا ہے،وہ پوچھنے والے سے زیادہ نہیں جانتا۔لیکن قیامت کی کچھ علامات ہیں جن کے ساتھ اس کا پنا چل جائے گا،مثلا: جب تو دیکھے کہ بکر یوں بھیڑوں کے چرواہے عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے کا فخریہ انداز میں مقابلہ کر رہے ہیں اور ننگے پاؤں چلنے والے اور ننگے جسم رہنے والے کو زمین کا بادشاہ بنے دیکھے اور دیکھے کہ عورتیں اپنےمالک جننے لگی ہیں (تو پھر قیامت کاانتظار کر)۔پانچ چیزیں ایسی ہیں جن کا الل تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔پھر آپنے یہ آبیت پڑھی (ان اللہ عندہ علم الساعۃ.....) ’’اللہ ہی کو قیامت کا علم ہے .............،،پھر فرمایا:’’قسم اس ذات کی جس نے محمد (ﷺ) کو سچا نبی بنایا جو رہنمائی کرنے والا اور خوش خبری دینے والا ہے! تمھاری طرح میں بھی اس آدمی کو پہچان نہیں سکا تھا۔(پھر معلوم ہو اکہ)وہ جبر یل علیہ السلام تھے جو دحیہ کلبی کی صورت میں آئے تھے۔،،