Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 5061 (سنن النسائي)

[5061]إسنادہ صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا إِسْمَعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ قَالَ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ الْحَارِثِ عَنْ كَہْمَسٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ شَقِيقٍ قَالَ كَانَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ عَامِلًا بِمِصْرَ فَأَتَاہُ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِہِ فَإِذَا ہُوَ شَعِثُ الرَّأْسِ مُشْعَانٌّ قَالَ مَا لِي أَرَاكَ مُشْعَانًّا وَأَنْتَ أَمِيرٌ قَالَ كَانَ نَبِيُّ اللہِ ﷺ يَنْہَانَا عَنْ الْإِرْفَاہِ قُلْنَا وَمَا الْإِرْفَاہُ قَالَ التَّرَجُّلُ كُلَّ يَوْمٍ

حضرت عبداللہ بن شفیق سے روایت ہے کہ نبئ اکرمﷺ کے صحابہ میں سے ایک صحابی مصر کے حاکم تھے۔ان کا ایک ساتھی ان کے پاس آیا تو دیکھا کہ ان کے بال پراگندہ اور بکھرے ہوئے ہیں۔وہ کہنے لگا:کیا وجہ ہے کہ آپ کے بال بکھرے ہوئے ہیں،حالانکہ آپ حاکم ہیں؟ انہوں نے فرمایا نبئ اکرمﷺ ہمیں زیادہ ٹیپ ٹاپ سے روکا کرتے تھے۔اس نے کہا: ٹیپ ٹاپ کا کیا مطلب؟ انہوں نے فرمایا: ہر روز کنگھی کرنا۔