Sheikh Zubair Alizai

Sunan Al-Nasai Hadith 656 (سنن النسائي)

[656]صحیح

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

أَخْبَرَنَا إِبْرَاہِيمُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ حَدَّثَنَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَعِيلَ قَالَ أَنْبَأَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ أَبِيہِ أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللہِ قَالَ سَارَ رَسُولُ اللہِ ﷺ حَتَّی أَتَی عَرَفَةَ فَوَجَدَ الْقُبَّةَ قَدْ ضُرِبَتْ لَہُ بِنَمِرَةَ فَنَزَلَ بِہَا حَتَّی إِذَا زَاغَتْ الشَّمْسُ أَمَرَ بِالْقَصْوَاءِ فَرُحِّلَتْ لَہُ حَتَّی إِذَا انْتَہَی إِلَی بَطْنِ الْوَادِي خَطَبَ النَّاسَ ثُمَّ أَذَّنَ بِلَالٌ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ وَلَمْ يُصَلِّ بَيْنَہُمَا شَيْئًا

حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ رسول اللہ ﷺ چلے حتیٰ کہ عرفہ میں آئے تو وہاں وادیٔ نمرہ میں اپنے لیے خیمہ لگا ہوا پایا،چنانچہ آپ اس میں اترے حتیٰ کہ جب سورج ڈھل گیا تو آپ نے حکم دیا،(آپ کی اونٹنی) قصواء پر پالان کسا گیا۔جب آپ وادیٔ نمرہ کے نشیب میں پہنچے تو لوگوں کو خطبہ دیا،پھر بلال نے اذان کہی،پھر اقامت کہی تو آپ نے ظہر کی نماز پڑھائی،پھر اقامت کہی تو عصر کی نماز پڑھائی اور ان کے درمیان کوئی (نفل) نماز نہیں پڑھی۔