Sunan Al-Nasai Hadith 662 (سنن النسائي)
[662]إسنادہ صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ قَالَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ عَنْ أَبِيہِ قَالَ شَغَلَنَا الْمُشْرِكُونَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ عَنْ صَلَاةِ الظُّہْرِ حَتَّی غَرَبَتْ الشَّمْسُ وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يَنْزِلَ فِي الْقِتَالِ مَا نَزَلَ فَأَنْزَلَ اللہُ عَزَّ وَجَلَّ وَكَفَی اللہُ الْمُؤْمِنِينَ الْقِتَالَ فَأَمَرَ رَسُولُ اللہِ ﷺ بِلَالًا فَأَقَامَ لِصَلَاةِ الظُّہْرِ فَصَلَّاہَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيہَا لِوَقْتِہَا ثُمَّ أَقَامَ لِلْعَصْرِ فَصَلَّاہَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيہَا فِي وَقْتِہَا ثُمَّ أَذَّنَ لِلْمَغْرِبِ فَصَلَّاہَا كَمَا كَانَ يُصَلِّيہَا فِي وَقْتِہَا
حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ہمیں مشرکوں نے جنگ خندق کے دن ظہر کی نماز سے مصروف رکھا حتی کہ سورج غروب ہوگیا،لڑائی (کی نماز) کے بارے میں جو کچھ نازل ہوا (یعنی صلاۃ خوف کا طریقہ) یہ اس سے پہلے کی بات ہے،چنانچہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار دی: (وکفی اللہ المومنین التقال) ’’اللہ تعالیٰ مومنوں کو لڑائی سے کافی ہوگیا۔‘‘ رسول اللہ ﷺ نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم دیا تو انھوں نے ظہر کی نماز کی اقامت کہی تو آپ نے اس طرح نماز پڑھی جس طرح وقت میں پڑھا کرتے تھے،پھر عصر کی اقامت کہی تو آپ نے وہ نماز بھی اسی طرح پڑھی جس طرح وقت میں پڑھا کرتے تھے،پھر بلال رضی اللہ عنہ نے مغرب کی اذان کہی تو آپ نے اسے اس کے وقت میں پڑھا۔