Sunan Al-Nasai Hadith 779 (سنن النسائي)
[779]صحیح
صحیح مسلم
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ الْبَرَّاءِ قَالَ أَخَّرَ زِيَادٌ الصَّلَاةَ فَأَتَانِي ابْنُ صَامِتٍ فَأَلْقَيْتُ لَہُ كُرْسِيًّا فَجَلَسَ عَلَيْہِ فَذَكَرْتُ لَہُ صُنْعَ زِيَادٍ فَعَضَّ عَلَی شَفَتَيْہِ وَضَرَبَ عَلَی فَخِذِي وَقَالَ إنِّي سَأَلْتُ أَبَا ذَرٍّ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخْذَكَ وَقَالَ إِنِّي سَأَلْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَمَا سَأَلْتَنِي فَضَرَبَ فَخِذِي كَمَا ضَرَبْتُ فَخِذَكَ فَقَالَ عَلَيْہِ الصَّلَاة وَالسَّلَامُ صَلِّ الصَّلَاةَ لِوَقْتِہَا فَإِنْ أَدْرَكْتَ مَعَہُمْ فَصَلِّ وَلَا تَقُلْ إِنِّي صَلَّيْتُ فَلَا أُصَلِّي
حضرت ابو العالیہ براء نے کہا کہ ایک دن زیاد (گورنر کوفہ و بصرہ) نے نماز کو مؤخر کیا تو میرے پاس عبداللہ بن صامت آئے،میں نے ان کے لیے کرسی رکھی۔وہ اس پر بیٹھ گئے۔میں نے ان سے زیاد کے اس فعل کا ذکر کیا تو انھوں نے اپنے ہونٹ کاٹے اور میری رات پر ہاتھ مارا اور کہنے لگے: میں نے حضرتابوذر رضی اللہ عنہ سے یہ مسئلہ پوچھا تھا جیسے کہ تو نے مجھ سے پوچھا ہے تو انھوں نے میری ران پر اسی طرح ہاتھ مارا تھا جس طرح میں نے تیری ران پر مارا ہے اور فرمایا: میں نے اللہ کے رسول ﷺ سے یہ مسئلہ پوچھا تھا جیسا کہ تو نے مجھ سے پوچھا ہے تو آپ نے بھی میری ران پر ہاتھ مارا تھا جس طرح میں نے تیری ران پر مارا ہے اور آپ ﷺ نے فرمایا تھا: ’’وقت پر نماز پڑھ لینا،پھر اگر ان (مؤخر کرنے والوں) کے ساتھ نماز پالے تو ان کے ساتھ بھی پڑھ لینا۔یہ نہ کہنا کہ میں نے نماز پڑھ لی ہے،لہٰذا میں (ان کے ساتھ) نہیں پڑھوں گا۔‘‘