Sunan Al-Nasai Hadith 801 (سنن النسائي)
[801] إسنادہ ضعیف
بریدۃ بن سفیان: ضعیف (التحریر: 661) ضعفہ الجمہور۔
وأما صلاۃ الرجلین خلف الإمام فصحیح،انظر صحیح مسلم (3010/74)۔
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ بْنُ عَبْدِ اللہِ قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ حَدَّثَنَا أَفْلَحُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنَا بُرَيْدَةُ بْنُ سُفْيَانَ بْنِ فَرْوَةَ الْأَسْلَمِيُّ عَنْ غُلَامٍ لِجَدِّہِ يُقَالُ لَہُ مَسْعُودٌ فَقَالَ مَرَّ بِي رَسُولُ اللہِ ﷺ وَأَبُو بَكْرٍ فَقَالَ لِي أَبُو بَكْرٍ يَا مَسْعُودُ ائْتِ أَبَا تَمِيمٍ يَعْنِي مَوْلَاہُ فَقُلْ لَہُ يَحْمِلْنَا عَلَی بَعِيرٍ وَيَبْعَثْ إِلَيْنَا بِزَادٍ وَدَلِيلٍ يَدُلُّنَا فَجِئْتُ إِلَی مَوْلَايَ فَأَخْبَرْتُہُ فَبَعَثَ مَعِي بِبَعِيرٍ وَوَطْبٍ مِنْ لَبَنٍ فَجَعَلْتُ آخُذُ بِہِمْ فِي إِخْفَاءِ الطَّرِيقِ وَحَضَرَتْ الصَّلَاةُ فَقَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُصَلِّي وَقَامَ أَبُو بَكْرٍ عَنْ يَمِينِہِ وَقَدْ عَرَفْتُ الْإِسْلَامَ وَأَنَا مَعَہُمَا فَجِئْتُ فَقُمْتُ خَلْفَہُمَا فَدَفَعَ رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي صَدْرِ أَبِي بَكْرٍ فَقُمْنَا خَلْفَہُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ بُرَيْدَةُ ہَذَا لَيْسَ بِالْقَوِيِّ فِي الْحَدِيثِ
حضرت مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ میرے پاس سے گزرے۔حضرت ابوبکر مجھے کہنے لگے: اے مسعود! اپنے آقا ابوتمیم کے پاس جاؤ اور ان سے کہو کہ وہ ہمیں سواری کے لیے ایک اونٹ دیں۔کچھ خرچ بھی بھیجیں اور ایک رہنما بھی ساتھ کر دیں جو ہمیں مدینے کی راہ بتلائے۔میں اپنے آقا کے پاس آیا اور انھیں پیغام پہنچایا تو انھوں نے میرے ہاتھ ایک اونٹ اور دودھ کا ایک مشکیزا بھیجا (اور مجھے رہنما بنا دیا)۔میں انھیں پوشیدہ راستے سے لے کر چلا۔نماز کا وقت ہوگیا تو رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوکر نماز پھانے لگے۔حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ کے دائیں کھڑے ہوگئے۔اس وقت تک میں بھی اسلام قبول کر چکا تھا۔(اس لیے) میں ان دونوں کے ساتھ آیا۔میں ان کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔رسول اللہ ﷺ نے ابوبکر کے سینے پر ہاتھ مارا (کہ وہ پیچھے ہٹ کر میرے ساتھ کھڑے ہو جائیں) پھر ہم دونوں آپ کے پیچھے کھڑے ہوئے۔ابوب عبدالرحمٰن (امام نسائی) رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ (سند میں مذکور) یہ بریدہ حدیث میں قوی نہیں۔(یعنی ضعیف ہے۔)