Sunan Al-Nasai Hadith 802 (سنن النسائي)
[802]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ عَنْ مَالِكٍ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ جَدَّتَہُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللہِ ﷺ لِطَعَامٍ قَدْ صَنَعَتْہُ لَہُ فَأَكَلَ مِنْہُ ثُمَّ قَالَ قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ لَكُمْ قَالَ أَنَسٌ فَقُمْتُ إِلَی حَصِيرٍ لَنَا قَدْ اسْوَدَّ مِنْ طُولِ مَا لُبِسَ فَنَضَحْتُہُ بِمَاءٍ فَقَامَ رَسُولُ اللہِ ﷺ وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَہُ وَالْعَجُوزُ مِنْ وَرَائِنَا فَصَلَّی لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ان کی دادی ملیکہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ ﷺ کو کھانے کی دعوت دی جو انھوں نے آپ کے لیے تیار کیا تھا۔آپ نے اس میں سے کچھ کھایا پھر فرمایا: اٹھو! میں تمھیں نماز پڑھاؤں۔حضرت انس رضی اللہ عنہ نے کہا: میں اپنی ایک چٹائی کی طرف اٹھا جو زیادہ استعمال کی وجہ سے سیاہ ہوچکی تھی۔میں نے اس پر پانی ڈالا۔رسول اللہ ﷺ اٹھے۔میں نے اور ایک یتیم نے آپ کے پیچھے صف بنائی اور بڑھیا (دادی محترمہ) ہمارے پیچھے کھڑی ہوئیں۔آپ نے ہمیں دو رکعتیں پڑھائیں پھر آپ تشریف لے گئے۔