Sunan Al-Nasai Hadith 899 (سنن النسائي)
[899]صحیح
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ حِمْيَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعَيْبُ بْنُ أَبِي حَمْزَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ وَذَكَرَ آخَرَ قَبْلَہُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ہُرْمُزَ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ كَانَ إِذَا قَامَ يُصَلِّي تَطَوُّعًا قَالَ اللہُ أَكْبَرُ وَجَّہْتُ وَجْہِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا مُسْلِمًا وَمَا أَنَا مِنْ الْمُشْرِكِينَ إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّہِ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَہُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا أَوَّلُ الْمُسْلِمِينَ اللہُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَہَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ ثُمَّ يَقْرَأُ
حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ جب نفل نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوتے تو اللہ اکبر کہتے (پھر کہتے:) [وجھت وجھی۔۔۔سبحانک وبحمدک] ’’میں نے اپنا چہرہ اس ذات کی طرف متوجہ کیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا۔سب کو چھوڑ کر اسی کا ہوچکا ہوں۔اسی کا فرماں بردار ہوں اور مشرک نہیں۔یقیناً میری نماز،میری دیگر عبادات،میری زندگی اور میری موت اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔اس کا کوئی شریک نہیں۔اور مجھے اسی بات کا حکم دیا گیا ہے۔اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں۔اے اللہ! توہے حقیقی بادشاہ۔تیرے سوا کوئی (سچا)معبود نہیں۔تو ہر قسم کے نقائص و عیوب سے پاک ہے اور سب تعریفوں کا مالک ہے۔‘‘ پھر قراءت فرماتے۔