Jamia al-Tirmidhi Hadith 1037 (سنن الترمذي)
[1037]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ أَخْبَرَنَا الشَّيْبَانِيُّ حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ أَخْبَرَنِي مَنْ رَأَی النَّبِيَّ ﷺ وَرَأَی قَبْرًا مُنْتَبِذًا فَصَفَّ أَصْحَابَہُ خَلْفَہُ فَصَلَّی عَلَيْہِ فَقِيلَ لَہُ مَنْ أَخْبَرَكَہُ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَنَسٍ وَبُرَيْدَةَ وَيَزِيدَ بْنِ ثَابِتٍ وَأَبِي ہُرَيْرَةَ وَعَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ وَأَبِي قَتَادَةَ وَسَہْلِ بْنِ حُنَيْفٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ لَا يُصَلَّی عَلَی الْقَبْرِ وَہُوَ قَوْلُ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ و قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ إِذَا دُفِنَ الْمَيِّتُ وَلَمْ يُصَلَّ عَلَيْہِ صُلِّيَ عَلَی الْقَبْرِ وَرَأَی ابْنُ الْمُبَارَكِ الصَّلَاةَ عَلَی الْقَبْرِ و قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ يُصَلَّی عَلَی الْقَبْرِ إِلَی شَہْرٍ وَقَالَا أَكْثَرُ مَا سَمِعْنَا عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّی عَلَی قَبْرِ أُمِّ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ بَعْدَ شَہْرٍ
شعبی کا بیان ہے کہ مجھے ایک ایسے شخص نے خبردی ہے جس نے نبی اکرمﷺ کو دیکھاکہ آپ نے ایک قبر الگ تھلگ دیکھی تو اپنے پیچھے صحابہ کی صف بندی کی اور اس کی صلاۃِ جنازہ پڑھائی۔شعبی سے پوچھاگیا کہ آپ کو یہ خبر کس نے دی۔تو انہوں نے کہا: ابن عباس رضی اللہ عنہما نے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ابن عباس کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں انس،بریدہ،یزید بن ثابت،ابوہریرہ،عامر بن ربیعہ،ابوقتادہ اور سہل بن حنیف سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے۔یہی شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ کابھی قول ہے،۴-بعض اہل علم کہتے ہیں کہ قبرپر صلاۃ نہیں پڑھی جائے گی ۱؎ یہ مالک بن انس کا قول ہے،۵-عبداللہ بن مبارک کہتے ہیں کہ جب میت کو دفن کردیا جائے اور اس کی صلاۃِجنازہ نہ پڑھی گئی ہو تواس کی صلاۃِجنازہ قبر پرپڑھی جائے گی،۶-ابن مبارک قبر پر صلاۃ (جنازہ) پڑھنے کے قائل ہیں،۷-احمد اوراسحاق بن راہویہ کہتے ہیں: قبر پر صلاۃ ایک ماہ تک پڑھی جاسکتی ہے۔یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اکثر سنا ہے سعیدبن مسیب سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے سعد بن عبادہ کی والدہ کی صلاۃِ جنازہ ایک ماہ کے بعد قبر پر پڑھی۔