Jamia al-Tirmidhi Hadith 1055 (سنن الترمذي)

[1055]صحیح

ولہ شاھد صحیح في تاریخ دمشق (35/ 41) و سندہ صحیح وبہ صح الحدیث، ابن جریج صرح بالسماع عند عبد الرزاق (3/ 517 ح 6535) لکن مختصرا، وجاء فی مصنف ابن ابی شیبۃ (3/ 343، 344) لون آخر

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ حُرَيْثٍ حَدَّثَنَا عِيسَی بْنُ يُونُسَ عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ تُوُفِّيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بِحُبْشِيٍّ قَالَ فَحُمِلَ إِلَی مَكَّةَ فَدُفِنَ فِيہَا فَلَمَّا قَدِمَتْ عَائِشَةُ أَتَتْ قَبْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ فَقَالَتْ وَكُنَّا كَنَدْمَانَيْ جَذِيمَةَ حِقْبَةً مِنْ الدَّہْرِ حَتَّی قِيلَ لَنْ يَتَصَدَّعَا فَلَمَّا تَفَرَّقْنَا كَأَنِّي وَمَالِكًا لِطُولِ اجْتِمَاعٍ لَمْ نَبِتْ لَيْلَةً مَعَا ثُمَّ قَالَتْ وَاللہِ لَوْ حَضَرْتُكَ مَا دُفِنْتَ إِلَّا حَيْثُ مُتَّ وَلَوْ شَہِدْتُكَ مَا زُرْتُكَ

عبداللہ بن ابی ملیکہ کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن ابی بکر حبشہ میں وفات پاگئے توانہیں مکہ لاکر دفن کیا گیا،جب ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا (مکہ) آئیں تو عبدالرحمٰن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کی قبر پر آکر انہوں نے یہ اشعار پڑھے۔(ہم دونوں ایک عرصے تک ایک ساتھ ایسے رہے تھے جیسے بادشاہ جزیمہ کے دوہم نشین،یہاں تک کہ یہ کہاجانے لگا کہ یہ دونوں کبھی ایک دوسرے سے جدانہ ہوں گے۔پھر جب ہم جدا ہوئے تو مدت دراز تک ایک ساتھ رہنے کے باوجود ایسا لگنے لگا گویا میں اور مالک ایک رات بھی کبھی ایک ساتھ نہ رہے ہوں۔پھرکہا: اللہ کی قسم! اگر میں تمہارے پاس موجود ہوتی توتجھے وہیں دفن کیاجاتا جہاں تیرا انتقال ہوا اور اگر میں حاضر رہی ہوتی تو تیری زیارت کونہ آتی۔

قال معاذ علی زئی: وانظر الطبقات لابن سعد (5/ 22،طبع خانجی،وسندہ صحیح،المنتظم لابن الجوزی: 5/ 301) وانظر انوار الصحیفہ (ص 216،طبع سوم)