Jamia al-Tirmidhi Hadith 1062 (سنن الترمذي)

[1062]إسنادہ حسن

مشکوۃ المصابیح (1735)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ الْجَہْضَمِيُّ وَأَبُو الْخَطَّابِ زِيَادُ بْنُ يَحْيَی الْبَصْرِيُّ قَالَا حَدَّثَنَا عَبْدُ رَبِّہِ بْنُ بَارِقٍ الْحَنَفِيُّ قَال سَمِعْتُ جَدِّي أَبَا أُمِّي سِمَاكَ بْنَ الْوَلِيدِ الْحَنَفِيَّ يُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ ابْنَ عَبَّاسٍ يُحَدِّثُ أَنَّہُ سَمِعَ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ مَنْ كَانَ لَہُ فَرَطَانِ مِنْ أُمَّتِي أَدْخَلَہُ اللہُ بِہِمَا الْجَنَّةَ فَقَالَتْ عَائِشَةُ فَمَنْ كَانَ لَہُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ وَمَنْ كَانَ لَہُ فَرَطٌ يَا مُوَفَّقَةُ قَالَتْ فَمَنْ لَمْ يَكُنْ لَہُ فَرَطٌ مِنْ أُمَّتِكَ قَالَ فَأَنَا فَرَطُ أُمَّتِي لَنْ يُصَابُوا بِمِثْلِي قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ عَبْدِ رَبِّہِ بْنِ بَارِقٍ وَقَدْ رَوَی عَنْہُ غَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الْأَئِمَّةِ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمُرَابِطِيُّ حَدَّثَنَا حَبَّانُ بْنُ ہِلَالٍ أَنْبَأَنَا عَبْدُ رَبِّہِ بْنُ بَارِقٍ فَذَكَرَ نَحْوَہُ وَسِمَاكُ بْنُ الْوَلِيدِ ہُوَ أَبُو زُمَيْلٍ الْحَنَفِيُّ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا: میری امت میں سے جس کے دوپیش روہوں،اللہ اسے ان کی وجہ سے جنت میں داخل کرے گااس پرعائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: آپ کی امت میں سے جس کے ایک ہی پیش روہوتو؟ آپ نے فرمایا: جس کے ایک ہی پیش رو ہو اُسے بھی اے توفیق یافتہ خاتون!(پھر) انہوں نے پوچھا: آپ کی امت میں جس کا کوئی پیش روہی نہ ہو اس کاکیا ہوگا؟توآپ نے فرمایا:میں اپنی امت کاپیش روہوں کسی کی جدائی سے انہیں ایسی تکلیف نہیں ہوگی جیسی میری جدائی سے انہیں ہوگی۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن غریب ہے،۲-ہم اسے عبدربہ بن بارق ہی کی روایت سے جانتے ہیں اور ان سے کئی ائمہ نے روایت کی ہے۔