Jamia al-Tirmidhi Hadith 1145 (سنن الترمذي)
[1145]صحیح
مشکوۃ المصابیح (3207)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ غَيْلَانَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّہُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَلَمْ يَفْرِضْ لَہَا صَدَاقًا وَلَمْ يَدْخُلْ بِہَا حَتَّی مَاتَ فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ لَہَا مِثْلُ صَدَاقِ نِسَائِہَا لَا وَكْسَ وَلَا شَطَطَ وَعَلَيْہَا الْعِدَّةُ وَلَہَا الْمِيرَاثُ فَقَامَ مَعْقِلُ بْنُ سِنَانٍ الْأَشْجَعِيُّ فَقَالَ قَضَی رَسُولُ اللہِ ﷺ فِي بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ امْرَأَةٍ مِنَّا مِثْلَ الَّذِي قَضَيْتَ فَفَرِحَ بِہَا ابْنُ مَسْعُودٍ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ الْجَرَّاحِ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ ہَارُونَ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ كِلَاہُمَا عَنْ سُفْيَانَ عَنْ مَنْصُورٍ نَحْوَہُ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ مَسْعُودٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَقَدْ رُوِيَ عَنْہُ مِنْ غَيْرِ وَجْہٍ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ وَبِہِ يَقُولُ الثَّوْرِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ مِنْہُمْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَابْنُ عَبَّاسٍ وَابْنُ عُمَرَ إِذَا تَزَوَّجَ الرَّجُلُ الْمَرْأَةَ وَلَمْ يَدْخُلْ بِہَا وَلَمْ يَفْرِضْ لَہَا صَدَاقًا حَتَّی مَاتَ قَالُوا لَہَا الْمِيرَاثُ وَلَا صَدَاقَ لَہَا وَعَلَيْہَا الْعِدَّةُ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ قَالَ لَوْ ثَبَتَ حَدِيثُ بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ لَكَانَتْ الْحُجَّةُ فِيمَا رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ وَرُوِي عَنْ الشَّافِعِيِّ أَنَّہُ رَجَعَ بِمِصْرَ بَعْدُ عَنْ ہَذَا الْقَوْلِ وَقَالَ بِحَدِيثِ بِرْوَعَ بِنْتِ وَاشِقٍ
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ان سے ایک ایسے شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے ایک عورت سے شادی کی لیکن اس نے نہ اس کا مہر مقرر کیا اورنہ اس سے صحبت کی یہاں تک کہ وہ مرگیا،تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اس عورت کے لیے اپنے خاندان کی عورتوں کے جیسا مہر ہوگا۔نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ۔اسے عدت بھی گزارنی ہوگی اور میراث میں بھی اس کا حق ہوگا۔تو معقل بن سنان اشجعی نے کھڑے ہوکر کہا: بروع بنت واشق جوہمارے قبیلے کی عورت تھی،کے بارے میں رسول اللہ ﷺ نے ایسا ہی فیصلہ فرمایاتھا جیسا آپ نے کیا ہے۔تواس سے ابن مسعود رضی اللہ عنہ خوش ہوئے ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں جراح سے بھی روایت ہے۔۳-یزیدبن ہارون اورعبدالرزاق نے بسند سفیان عن منصورسے اسی طرح روایت کی ہے،۴-ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے یہ اور بھی طرق سے مروی ہے،۵-صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کااسی پر عمل ہے ۲؎ یہی ثوری،احمد اور اسحاق بن راہویہ کابھی قول ہے،۶-اورصحابہ کرام میں سے بعض اہل علم صحابہ کہتے ہیں:جن میں علی بن ابی طالب،زید بن ثابت،ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہم بھی شامل ہیں کہتے ہیں کہ جب آدمی کسی عورت سے شادی کرے،اوراس نے اس سے ابھی دخول نہ کیاہو اور نہ ہی اس کا مہر مقرر کیاہو اوروہ مرجائے تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس عورت کو میراث میں حق ملے گا،لیکن کوئی مہر نہیں ہوگا ۳؎ اور اسے عدت گزارنی ہوگی۔یہی شافعی کابھی قول ہے۔وہ کہتے ہیں: اگر بروع بنت واشق کی حدیث صحیح ہو تو نبی اکرمﷺ سے مروی ہونے کی وجہ سے حجت ہوگی۔اور شافعی سے مروی ہے کہ انہوں نے بعد میں مصر میں اس قول سے رجوع کرلیا اور بروع بنت واشق کی حدیث کے مطابق فتویٰ دیا۔