Jamia al-Tirmidhi Hadith 1193 (سنن الترمذي)

[1193]حسن

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ إِبْرَاہِيمَ عَنْ الْأَسْوَدِ عَنْ أَبِي السَّنَابِلِ بْنِ بَعْكَكٍ قَالَ وَضَعَتْ سُبَيْعَةُ بَعْدَ وَفَاةِ زَوْجِہَا بِثَلَاثَةٍ وَعِشْرِينَ أَوْ خَمْسَةٍ وَعِشْرِينَ يَوْمًا فَلَمَّا تَعَلَّتْ تَشَوَّفَتْ لِلنِّكَاحِ فَأُنْكِرَ عَلَيْہَا فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ ﷺ فَقَالَ إِنْ تَفْعَلْ فَقَدْ حَلَّ أَجَلُہَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَی حَدَّثَنَا شَيْبَانُ عَنْ مَنْصُورٍ نَحْوَہُ و قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ أَبِي السَّنَابِلِ حَدِيثٌ مَشْہُورٌ غَرِيبٌ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ وَلَا نَعْرِفُ لِلْأَسْوَدِ سَمَاعًا مِنْ أَبِي السَّنَابِلِ و سَمِعْت مُحَمَّدًا يَقُولُ لَا أَعْرِفُ أَنَّ أَبَا السَّنَابِلِ عَاشَ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ أَنَّ الْحَامِلَ الْمُتَوَفَّی عَنْہَا زَوْجُہَا إِذَا وَضَعَتْ فَقَدْ حَلَّ التَّزْوِيجُ لَہَا وَإِنْ لَمْ تَكْنِ انْقَضَتْ عِدَّتُہَا وَہُوَ قَوْلُ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ وَالشَّافِعِيِّ وَأَحْمَدَ وَإِسْحَقَ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ تَعْتَدُّ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ

ابوسنابل بن بعکک رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ سبیعہ نے اپنے شوہر کی موت کے تئیس یا پچیس دن بعد بچہ جنا،اور جب وہ نفاس سے پاک ہوگئی تونکاح کے لیے زینت کرنے لگی،اس پر اعتراض کیاگیا،اورنبی اکرمﷺ سے اس کاذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا: اگرو ہ ایساکرتی ہے (تو حرج کی بات نہیں) اس کی عدت پوری ہوچکی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-ابوسنابل کی حدیث مشہوراور اس سند سے غریب ہے،۲-ہم ابوسنابل سے اسود کا سماع نہیں جانتے ہیں،۳-میں نے محمدبن اسماعیل بخاری کو کہتے سناکہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرمﷺ کے بعد ابوسنابل زندہ رہے یانہیں،۴-اس باب میں ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے بھی حدیث روایت ہے،۵-صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پرعمل ہے کہ حاملہ عورت جس کا شوہرفوت ہوچکاہو جب بچہ جن دے تو اس کے لیے شادی کرنا جائز ہے،اگرچہ اس کی عدت پوری نہ ہوئی ہو۔سفیان ثوری،شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے،۶-اورصحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو مدت بعد میں پوری ہوگی اس کے مطابق وہ عدت گزارے گی،پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔