Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 127 (سنن الترمذي)

[127] إسنادہ ضعیف

ابو داود (257) ابن ماجہ (625)

أبو الیقظان ضعیف مدلس

وللحدیث شواھد ضعیفۃ

انوار الصحیفہ ص 193

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ،أَخْبَرَنَا شُرَيْكٌ: نَحْوَہُ بِمَعْنَاہُ. قَالَ أَبُو عِيسَی: ہَذَا حَدِيثٌ قَدْ تَفَرَّدَ بِہِ شَرِيكٌ عَنْ أَبِي الْيَقْظَانِ. قَالَ: وَسَأَلْتُ مُحَمَّدًا عَنْ ہَذَا الْحَدِيثِ،فَقُلْتُ: عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ،عَنْ أَبِيہِ،عَنْ جَدِّہِ،جَدُّ عَدِيٍّ مَا اسْمُہُ؟ فَلَمْ يَعْرِفْ مُحَمَّدٌ اسْمَہُ. وَذَكَرْتُ لِمُحَمَّدٍ قَوْلَ يَحْيَی بْنِ مَعِينٍ: أَنَّ اسْمَہُ دِينَارٌ فَلَمْ يَعْبَأْ بِہِ. و قَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَاقُ فِي الْمُسْتَحَاضَةِ: إِنْ اغْتَسَلَتْ لِكُلِّ صَلاَةٍ ہُوَ أَحْوَطُ لَہَا،وَإِنْ تَوَضَّأَتْ لِكُلِّ صَلاَةٍ أَجْزَأَہَا،وَإِنْ جَمَعَتْ بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ بِغُسْلٍ وَاحِدٍ أَجْزَأَہَا۔

اس سندسے بھی شریک نے اسی مفہوم کے ساتھ اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-اس حدیث میں شریک ابوالیقظان سے روایت کرنے میں منفردہیں،۲-احمد اور اسحاق بن راہویہ مستحاضہ عورت کے بارے میں کہتے ہیں کہ اگروہ ہر صلاۃ کے وقت غسل کرے تو یہ اس کے لیے زیادہ احتیاط کی بات ہے اور اگروہ ہرصلاۃ کے لیے وضو کرے تویہ اس کے لیے کافی ہے اور اگروہ ایک غسل سے دو صلاۃجمع کرے تو بھی کافی ہے۔