Jamia al-Tirmidhi Hadith 1270 (سنن الترمذي)
[1270]حسن
مشکوۃ المصابیح (2880)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَوْنِ بْنِ عَبْدِ اللہِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ فَالْقَوْلُ قَوْلُ الْبَائِعِ وَالْمُبْتَاعُ بِالْخِيَارِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ مُرْسَلٌ عَوْنُ بْنُ عَبْدِ اللہِ لَمْ يُدْرِكْ ابْنَ مَسْعُودٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ ہَذَا الْحَدِيثُ أَيْضًا وَہُوَ مُرْسَلٌ أَيْضًا قَالَ أَبُو عِيسَی قَالَ إِسْحَقُ بْنُ مَنْصُورٍ قُلْتُ لِأَحْمَدَ إِذَا اخْتَلَفَ الْبَيِّعَانِ وَلَمْ تَكُنْ بَيِّنَةٌ قَالَ الْقَوْلُ مَا قَالَ رَبُّ السِّلْعَةِ أَوْ يَتَرَادَّانِ قَالَ إِسْحَقُ كَمَا قَالَ وَكُلُّ مَنْ كَانَ الْقَوْلُ قَوْلَہُ فَعَلَيْہِ الْيَمِينُ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَكَذَا رُوِيَ عَنْ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ مِنْہُمْ شُرَيْحٌ وَغَيْرُہُ نَحْوُ ہَذَا
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جب بائع اورمشتری میں اختلاف ہوجائے تو بات بائع کی مانی جائے گی،اور مشتری کو اختیار ہوگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث مرسل ہے،عون بن عبداللہ نے ابن مسعود کو نہیں پایا،۲-اورقاسم بن عبدالرحمٰن سے بھی یہ حدیث مروی ہے،انہوں نے ابن مسعود سے اورابن مسعودنے نبی اکرمﷺسے روایت کی ہے۔اور یہ روایت بھی مرسل ہے،۳-اسحاق بن منصور کہتے ہیں: میں نے احمد سے پوچھا: جب بائع اورمشتری میں اختلاف ہوجائے اور کوئی گواہ نہ ہو تو کس کی بات تسلیم کی جائے گی؟ انہوں نے کہا: بات وہی معتبر ہوگی جوسامان کامالک کہے گا،یا پھر دونوں اپنی اپنی چیزواپس لے لیں یعنی بائع سامان واپس لے لے اورمشتری قیمت۔اسحاق بن راہویہ نے بھی وہی کہاہے جو احمدنے کہاہے،۴-اوربات جس کی بھی مانی جائے اس کے ذمہ قسم کھانا ہوگا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: تابعین میں سے بعض اہل علم سے اسی طرح مروی ہے،انہیں میں شریح بھی ہیں۔