Jamia al-Tirmidhi Hadith 1291 (سنن الترمذي)
[1291]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ مَنْ ابْتَاعَ طَعَامًا فَلَا يَبِعْہُ حَتَّی يَسْتَوْفِيَہُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ وَأَحْسِبُ كُلَّ شَيْءٍ مِثْلَہُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ جَابِرٍ وَابْنِ عُمَرَ وَأَبِي ہُرَيْرَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ كَرِہُوا بَيْعَ الطَّعَامِ حَتَّی يَقْبِضَہُ الْمُشْتَرِي وَقَدْ رَخَّصَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ فِيمَنْ ابْتَاعَ شَيْئًا مِمَّا لَا يُكَالُ وَلَا يُوزَنُ مِمَّا لَا يُؤْكَلُ وَلَا يُشْرَبُ أَنْ يَبِيعَہُ قَبْلَ أَنْ يَسْتَوْفِيَہُ وَإِنَّمَا التَّشْدِيدُ عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي الطَّعَامِ وَہُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺنے فرمایا: جو شخص غلہ خریدے تو اسے نہ بیچے جب تک کہ اس پر قبضہ نہ کرلے ۱؎،ابن عباس کہتے ہیں: میں ہرچیز کو غلّے ہی کے مثل سمجھتاہوں۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں جابر،ابن عمراور ابوہریرہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئیہیں،۳-اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے،ان لوگوں نے غلّہ کی بیع کو ناجائزکہا ہے۔جب تک مشتری اس پر قبضہ نہ کرلے،۴-اور بعض اہل علم نے قبضہ سے پہلے اس شخص کو بیچنے کی رخصت دی ہے جو کوئی ایسی چیز خریدے جو ناپی اور تولی نہ جاتی ہو اور نہ کھائی اورپی جاتی ہو،۵-اہل علم کے نزدیک سختی غلے کے سلسلے میں ہے۔احمد اوراسحاق بن راہویہ کابھی یہی قول ہے۔