Jamia al-Tirmidhi Hadith 1303 (سنن الترمذي)
[1303]متفق علیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ الْخَلَّالُ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ عَنْ الْوَلِيدِ بْنِ كَثِيرٍ حَدَّثَنَا بُشَيْرُ بْنُ يَسَارٍ مَوْلَی بَنِي حَارِثَةَ أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ وَسَہْلَ بْنَ أَبِي حَثْمَةَ حَدَّثَاہُ أَنَّ رَسُولَ اللہِ ﷺ نَہَی عَنْ بَيْعِ الْمُزَابَنَةِ الثَّمَرِ بِالتَّمْرِ إِلَّا لِأَصْحَابِ الْعَرَايَا فَإِنَّہُ قَدْ أَذِنَ لَہُمْ وَعَنْ بَيْعِ الْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ وَعَنْ كُلِّ ثَمَرٍ بِخَرْصِہِ قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ غَرِيبٌ مِنْ ہَذَا الْوَجْہِ
رافع بن خدیج اورسہل بن ابی حثمہ رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بیع مزابنہ یعنی سوکھی کھجوروں کے عوض درخت پرلگی کھجور بیچنے سے منع فرمایا،البتہ آپ نے عرایا والوں کو اجازت دی،اور خشک انگور کے عوض تر انگور بیچنے سے اوراندازہ لگاکرکوئی بھی پھل بیچنے سے منع فرمایا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: یہ حدیث اس طریق سے حسن صحیح غریب ہے۔