Jamia al-Tirmidhi Hadith 1351 (سنن الترمذي)

[1351]صحیح

مشکوۃ المصابیح (3014)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي ہِنْدٍ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ جَابِرٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ الْعُمْرَی جَائِزَةٌ لِأَہْلِہَا وَالرُّقْبَی جَائِزَةٌ لِأَہْلِہَا قَالَ أَبُو عِيسَی ہَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَی بَعْضُہُمْ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ بِہَذَا الْإِسْنَادِ عَنْ جَابِرٍ مَوْقُوفًا وَلَمْ يَرْفَعْہُ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ بَعْضِ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَغَيْرِہِمْ أَنَّ الرُّقْبَی جَائِزَةٌ مِثْلَ الْعُمْرَی وَہُوَ قَوْلُ أَحْمَدَ وَإِسْحَقَ وَفَرَّقَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَہْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِہِمْ بَيْنَ الْعُمْرَی وَالرُّقْبَی فَأَجَازُوا الْعُمْرَی وَلَمْ يُجِيزُوا الرُّقْبَی قَالَ أَبُو عِيسَی وَتَفْسِيرُ الرُّقْبَی أَنْ يَقُولَ ہَذَا الشَّيْءُ لَكَ مَا عِشْتَ فَإِنْ مُتَّ قَبْلِي فَہِيَ رَاجِعَةٌ إِلَيَّ وَقَالَ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ الرُّقْبَی مِثْلُ الْعُمْرَی وَہِيَ لِمَنْ أُعْطِيَہَا وَلَا تَرْجِعُ إِلَی الْأَوَّلِ

جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: عمریٰ جس کودیا گیا اس کے گھر والوں کاہے اوررقبیٰ ۱؎ بھی جس کودیا گیاہے اس کے گھروالوں کا ہے ۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-یہ حدیث حسن ہے،۲-اور بعض نے اسی سند سے ابوزبیرسے روایت کی ہے کہ انہوں نے اسے جابر سے موقوفاً نقل کیا ہے،اسے نبی اکرمﷺتک مرفوع نہیں کیا ہے،۳-رقبیٰ کی تفسیر یہ ہے کہ کوئی آدمی کہے کہ یہ چیز جب تک تم زندہ رہوگے تمہاری ہے اور اگر تم مجھ سے پہلے مرگئے تو یہ پھر میری طرف لوٹ آئے گی،۴-صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کا اسی پرعمل ہے کہ عمریٰ کی طرح رقبیٰ بھی جسے دیا گیا ہے اس کے گھروالوں ہی کاہوگا۔احمد اوراسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔اوراہل کوفہ وغیرہم میں سے بعض اہل علم نے عمریٰ اوررقبیٰ کے درمیان فرق کیا ہے،ان لوگوں نے عمریٰ کو تومعمر(جس کے نام چیزدی گئی تھی) کی موت کے بعداس کے ورثاء کاحق بتایاہے اوررقبیٰ کو کہاہے کہ ورثاء کاحق نہیں ہوگا بلکہ وہ دینے والی کی طرف لوٹ جائے گا۔