Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 143 (سنن الترمذي)

[143]حسن

مشکوۃ المصابیح (504)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَبُو رَجَاءٍ قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ قَالَتْ قُلْتُ لِأُمِّ سَلَمَةَ إِنِّي امْرَأَةٌ أُطِيلُ ذَيْلِي وَأَمْشِي فِي الْمَكَانِ الْقَذِرِ فَقَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ يُطَہِّرُہُ مَا بَعْدَہُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللہِ ﷺ لَا نَتَوَضَّأُ مِنْ الْمَوْطَإِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَہُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ قَالُوا إِذَا وَطِيءَ الرَّجُلُ عَلَی الْمَكَانِ الْقَذِرِ أَنَّہُ لَا يَجِبُ عَلَيْہِ غَسْلُ الْقَدَمِ إِلَّا أَنْ يَكُونَ رَطْبًا فَيَغْسِلَ مَا أَصَابَہُ قَالَ أَبُو عِيسَی وَرَوَی عَبْدُ اللہِ بْنُ الْمُبَارَكِ ہَذَا الْحَدِيثَ عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاہِيمَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِہُودِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَہُوَ وَہَمٌ وَلَيْسَ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ ابْنٌ يُقَالَ لَہُ ہُودٌ وَإِنَّمَا ہُوَ عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِإِبْرَاہِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ وَہَذَا الصَّحِيحُ

عبدالرحمٰن بن عوف رضی اللہ عنہ کی ایک ام ولد سے روایت ہے کہ میں نے ام المومنین ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: میں لمبا دامن رکھنے والی عورت ہوں اور میرا گندی جگہوں پربھی چلناہوتا ہے،(تو میں کیا کروں؟) انہوں نے کہاکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے: اس کے بعد کی (پاک) زمین اُسے پاک کردیتی ہے۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-اس باب میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے کہ ہم رسول اللہﷺ کے ساتھ گندی جگہوں پرسے گزر نے کے بعد پاؤں نہیں دھوتے تھے،۲-اہل علم میں سے بہت سے لوگوں کا یہی قول ہے کہ جب آدمی کسی گندے راستے سے ہوکر آئے تو اسے پاؤں دھونے ضروری نہیں سوائے اس کے کہ گندگی گیلی ہوتو ایسی صورت میں جو کچھ لگاہے اسے دھولے۔