Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 142 (سنن الترمذي)

[142]صحیح

مشکوۃ المصابیح (1069)

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْأَرْقَمِ قَالَ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَأَخَذَ بِيَدِ رَجُلٍ فَقَدَّمَہُ وَكَانَ إِمَامَ قَوْمِہِ وَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللہِ ﷺ يَقُولُ إِذَا أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ وَوَجَدَ أَحَدُكُمْ الْخَلَاءَ فَلْيَبْدَأْ بِالْخَلَاءِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأَبِي ہُرَيْرَةَ وَثَوْبَانَ وَأَبِي أُمَامَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْأَرْقَمِ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ ہَكَذَا رَوَی مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَيَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُ وَاحِدٍ مِنْ الْحُفَّاظِ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْأَرْقَمِ وَرَوَی وُہَيْبٌ وَغَيْرُہُ عَنْ ہِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ رَجُلٍ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ الْأَرْقَمِ وَہُوَ قَوْلُ غَيْرِ وَاحِدٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَالتَّابِعِينَ وَبِہِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ قَالَا لَا يَقُومُ إِلَی الصَّلَاةِ وَہُوَ يَجِدُ شَيْئًا مِنْ الْغَائِطِ وَالْبَوْلِ وَقَالَا إِنْ دَخَلَ فِي الصَّلَاةِ فَوَجَدَ شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ فَلَا يَنْصَرِفْ مَا لَمْ يَشْغَلْہُ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ لَا بَأْسَ أَنْ يُصَلِّيَ وَبِہِ غَائِطٌ أَوْ بَوْلٌ مَا لَمْ يَشْغَلْہُ ذَلِكَ عَنْ الصَّلَاةِ

عروہ سے روایت ہے کہ عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اپنی قوم کے امام تھے،صلاۃ کھڑی ہوئی تو انہوں نے ایک شخص کا ہاتھ پکڑ کر اسے (امامت کے لیے) آگے بڑھا دیا اور کہا: میں نے رسول اللہﷺ کو فرماتے سناہے: جب صلاۃ کے لیے اقامت ہوچکی ہو اور تم میں سے کوئی قضائے حاجت کی ضرورت محسوس کرے تو وہ پہلے قضائے حاجت کے لیے جائے۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ کی حدیث حسن صحیح ہے،۲-اس باب میں عائشہ،ابوہریرہ،ثوبان اور ابو امامہ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-اوریہی قول نبی اکرم ﷺ کے صحابہ اور تابعین میں کئی لوگوں کا ہے۔احمد،اسحاق بن راہویہ بھی یہی کہتے ہیں کہ جب آدمی کوپیشاب پاخانہ کی حاجت محسوس ہوتو وہ صلاۃ کے لیے نہ کھڑا ہو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگروہ صلاۃ میں شامل ہوگیا،پھر صلاۃ کے دوران اس کو اس میں سے کچھ محسوس ہو تو وہ اس وقت تک صلاۃ نہ توڑے جب تک یہ حاجت (صلاۃ سے) اس کی توجہ نہ ہٹا دے۔بعض اہل علم نے کہا ہے کہ پاخانے یا پیشاب کی حاجت کے ساتھ صلاۃ پڑھ لینے میں کوئی حرج نہیں جب تک کہ یہ چیزیں صلاۃ سے اس کی توجہ نہ ہٹا دیں۔