Jamia al-Tirmidhi Hadith 179 (سنن الترمذي)
[179] إسنادہ ضعیف
نسائي (623)
أبو عبیدۃ بن عبد اللہ بن مسعود لم یسمع من أبیہ
وحدیث النسائي (الأصل: 662 ) یغني عنہ
قال معاذ علي زئي: أبو الزبیر وھشیم صرحا بالسماع کما فی المستخرج الطوسی علی جامع الترمذی (1/ 443) لکن فیہ انقطاع،أبو عبیدہ لم یسمع من ابیہ
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا ہُشَيْمٌ عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللہِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ قَالَ عَبْدُ اللہِ بْنُ مَسْعُودٍ إِنَّ الْمُشْرِكِينَ شَغَلُوا رَسُولَ اللہِ ﷺ عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ حَتَّی ذَہَبَ مِنْ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللہُ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الظُّہْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعَصْرَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْمَغْرِبَ ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّی الْعِشَاءَ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي سَعِيدٍ وَجَابِرٍ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ عَبْدِ اللہِ لَيْسَ بِإِسْنَادِہِ بَأْسٌ إِلَّا أَنَّ أَبَا عُبَيْدَةَ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَبْدِ اللہِ وَہُوَ الَّذِي اخْتَارَہُ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ فِي الْفَوَائِتِ أَنْ يُقِيمَ الرَّجُلُ لِكُلِّ صَلَاةٍ إِذَا قَضَاہَا وَإِنْ لَمْ يُقِمْ أَجْزَأَہُ وَہُوَ قَوْلُ الشَّافِعِيِّ
ابوعبیدہ بن عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: مشرکین نے رسول اللہ ﷺ کو خندق کے دن چار صلاتوں سے روک دیا۔یہاں تک کہ رات جتنی اللہ نے چاہی گزرگئی،پھر آپ نے بلال کو حکم دیا توانہوں نے اذان کہی،پھراقامت کہی توآپﷺنے ظہر پڑھی،پھربلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی توآپ نے عصر پڑھی،پھربلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہی توآپ نے مغرب پڑھی،پھرانہوں نے اقامت کہی توآپﷺ نے عشاء پڑھی۔امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-اس باب میں ابوسعید اور جابر رضی اللہ عنہما سے بھی احادیث آئی ہیں،۲-عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی حدیث کی سند میں کوئی برائی نہیں ہے سوائے اس کے کہ ابوعبیدہ نے اپنے باپ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے نہیں سناہے،۳-اور چھوٹی ہوئی صلاتوں کے سلسلے میں بعض اہل علم نے اسی کوپسند کیا ہے کہ آدمی جب ان کی قضا کرے توہرصلاۃ کے لیے الگ الگ اقامت کہے ۱؎ اور اگرو ہ الگ الگ اقامت نہ کہے توبھی وہ اُسے کافی ہوگا،اوریہی شافعی کا قول ہے۔