Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 184 (سنن الترمذي)

[184] إسنادہ ضعیف

عطاء بن السائب اختلط ولم یحدث بہ قبل اختلاطہ فیما أعلم

انوار الصحیفہ ص 194

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ إِنَّمَا صَلَّی النَّبِيُّ ﷺ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ لِأَنَّہُ أَتَاہُ مَالٌ فَشَغَلَہُ عَنْ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الظُّہْرِ فَصَلَّاہُمَا بَعْدَ الْعَصْرِ ثُمَّ لَمْ يَعُدْ لَہُمَا وَفِي الْبَاب عَنْ عَائِشَةَ وَأُمِّ سَلَمَةَ وَمَيْمُونَةَ وَأَبِي مُوسَی قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ حَدِيثٌ حَسَنٌ وَقَدْ رَوَی غَيْرُ وَاحِدٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ صَلَّی بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ وَہَذَا خِلَافُ مَا رُوِيَ عَنْہُ أَنَّہُ نَہَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَحَدِيثُ ابْنِ عَبَّاسٍ أَصَحُّ حَيْثُ قَالَ لَمْ يَعُدْ لَہُمَا وَقَدْ رُوِيَ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ نَحْوُ حَدِيثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَائِشَةَ فِي ہَذَا الْبَابِ رِوَايَاتٌ رُوِيَ عَنْہَا أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ مَا دَخَلَ عَلَيْہَا بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا صَلَّی رَكْعَتَيْنِ وَرُوِيَ عَنْہَا عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ أَنَّہُ نَہَی عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ وَالَّذِي اجْتَمَعَ عَلَيْہِ أَكْثَرُ أَہْلِ الْعِلْمِ عَلَی كَرَاہِيَةِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ إِلَّا مَا اسْتُثْنِيَ مِنْ ذَلِكَ مِثْلُ الصَّلَاةِ بِمَكَّةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّی تَغْرُبَ الشَّمْسُ وَبَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّی تَطْلُعَ الشَّمْسُ بَعْدَ الطَّوَافِ فَقَدْ رُوِيَ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ رُخْصَةٌ فِي ذَلِكَ وَقَدْ قَالَ بِہِ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَمَنْ بَعْدَہُمْ وَبِہِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَقَدْ كَرِہَ قَوْمٌ مِنْ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ ﷺ وَمَنْ بَعْدَہُمْ الصَّلَاةَ بِمَكَّةَ أَيْضًا بَعْدَ الْعَصْرِ وَبَعْدَ الصُّبْحِ وَبِہِ يَقُولُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ وَمَالِكُ بْنُ أَنَسٍ وَبَعْضُ أَہْلِ الْكُوفَةِ

عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرمﷺ نے عصر کے بعد دورکعتیں پڑھیں،اس لیے کہ آپ کے پاس کچھ مال آیاتھا،جس کی وجہ سے آپ کو ظہر کے بعد کی دونوں رکعتیں پڑھنے کاموقع نہیں مل سکاتھا تو آپ نے انہیں عصر کے بعد پڑھا پھرآپ نے انہیں دوبارہ نہیں پڑھا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-ابن عباس رضی اللہ عنہما کی حدیث حسن ہے،۲-اس باب میں عائشہ،ام سلمہ،میمونہ اور ابوموسیٰ رضی اللہ عنہم سے بھی احادیث آئی ہیں،۳-دیگرکئی لوگوں نے بھی نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ نے عصر بعد دورکعتیں پڑھیں یہ اس چیزکے خلاف ہے جوآپ سے روایت کی گئی ہے کہ آپ نے عصرکے بعدجب تک سورج ڈوب نہ جائے صلاۃ پڑھنے سے منع فرمایا ہے،۴-ابن عباس والی حدیث جس میں ہے کہ آپ نے دوبارہ ایسا نہیں کیا،سب سے زیادہ صحیح ہے،۵-زید بن ثابت سے بھی ابن عباس ہی کی حدیث کی طرح مروی ہے،۶-اس باب میں عائشہ رضی اللہ عنہا سے بھی کئی حدیثیں مروی ہیں،نیزان سے یہ بھی روایت کیا گیا ہے کہ نبی اکرمﷺ جب بھی ان کے یہاں عصرکے بعد آتے دورکعتیں پڑھتے،۷-نیز انہوں نے ام سلمہ کے واسطہ سے نبی اکرمﷺ سے روایت کی ہے کہ آپ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اورفجرکے بعد جب تک نکل نہ آئے صلاۃ پڑھنے سے منع فرماتے تھے۔ ۸-اکثر اہل علم کا اتفاق بھی اسی پرہے کہ عصر کے بعد جب تک سورج ڈوب نہ جائے اور فجر کے بعدجب تک نکل نہ آئے صلاۃ پڑھنا مکروہ ہے سوائے ان صلاتوں کے جو اس سے مستثنیٰ ہیں مثلاً مکہ میں عصرکے بعد طواف کی دونوں رکعتیں پڑھنا یہاں تک سورج ڈوب جائے اور فجرکے بعد یہاں تک کہ سورج نکل آئے،اس سلسلے میں نبی اکرمﷺ سے رخصت مروی ہے،صحابہ کرام اوران کے بعد کے لوگوں میں سے اہل علم میں سے کچھ لوگوں نے یہی کہاہے۔اور یہی شافعی،احمد اور اسحاق بن راہویہ کہتے ہیں،صحابہ کرام اوران کے بعد کے لوگوں میں سے بعض اہل علم نے عصر اور فجرکے بعد مکہ میں بھی صلاۃ پڑھنے کو مکروہ جاناہے،سفیان ثوری،مالک بن انس اور بعض اہل کوفہ اسی کے قائل ہیں۔