Jamia al-Tirmidhi Hadith 188 (سنن الترمذي)
[188] إسنادہ ضعیف جدًا
حنش ھو حسین بن قیس الواسطي وھو متروک (تقریب: 1342)
تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَی بْنُ خَلَفٍ الْبَصْرِيُّ حَدَّثَنَا الْمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ أَبِيہِ عَنْ حَنَشٍ عَنْ عِكْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَنْ جَمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَقَدْ أَتَی بَابًا مِنْ أَبْوَابِ الْكَبَائِرِ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَنَشٌ ہَذَا ہُوَ أَبُو عَلِيٍّ الرَّحَبِيُّ وَہُوَ حُسَيْنُ بْنُ قَيْسٍ وَہُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَہْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَہُ أَحْمَدُ وَغَيْرُہُ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنْ لَا يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ إِلَّا فِي السَّفَرِ أَوْ بِعَرَفَةَ وَرَخَّصَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ مِنْ التَّابِعِينَ فِي الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ لِلْمَرِيضِ وَبِہِ يَقُولُ أَحْمَدُ وَإِسْحَقُ و قَالَ بَعْضُ أَہْلِ الْعِلْمِ يَجْمَعُ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي الْمَطَرِ وَبِہِ يَقُولُ الشَّافِعِيُّ وَأَحْمَدُ وَإِسْحَقُ وَلَمْ يَرَ الشَّافِعِيُّ لِلْمَرِيضِ أَنْ يَجْمَعَ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی اکرمﷺ نے فرمایا: جس نے بغیرعذرکے دوصلاتیں ایک ساتھ پڑھیں وہ کبیرہ گناہوں کے دروازوں سے میں ایک دروازے میں داخل ہوا ۱؎۔ امام ترمذی کہتے ہیں:۱-حنش ہی ابوعلی رحبی ہیں اوروہی حسین بن قیس بھی ہے۔یہ محدّثین کے نزدیک ضعیف ہے،احمد وغیرہ نے اس کی تضعیف کی ہے،۲-اوراسی پر اہل علم کاعمل ہے کہ سفر یا عرفہ کے سوا دو صلاتیں ایک ساتھ نہ پڑھی جائیں،۳-تابعین میں سے بعض اہل علم نے مریض کو دوصلاتیں ایک ساتھ جمع کرنے کی رخصت دی ہے۔یہی احمد اور اسحاق بن راہویہ بھی کہتے ہیں،۴-بعض اہل علم کہتے ہیں کہ بارش کے سبب بھی دوصلاتیں جمع کی جاسکتی ہیں۔شافعی،احمد،اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے۔البتہ شافعی مریض کے لیے دوصلاتیں ایک ساتھ جمع کر نے کو درست قرار نہیں دیتے۔