Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 198 (سنن الترمذي)

[198] إسنادہ ضعیف

ابن ماجہ (715)

أبو إسرائیل الملائي: إسماعیل بن خلیفۃ ضعیف ضعفہ الجمہور من جھۃ حفظہ (تحفۃ الأقویاء في تحقیق کتاب الضعفاء للبخاري: 16)

انوار الصحیفہ ص 195

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ حَدَّثَنَا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْرَائِيلَ عَنْ الْحَكَمِ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَی عَنْ بِلَالٍ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللہِ ﷺ لَا تُثَوِّبَنَّ فِي شَيْءٍ مِنْ الصَّلَوَاتِ إِلَّا فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ أَبِي مَحْذُورَةَ قَالَ أَبُو عِيسَی حَدِيثُ بِلَالٍ لَا نَعْرِفُہُ إِلَّا مِنْ حَدِيثِ أَبِي إِسْرَائِيلَ الْمُلَائِيِّ وَأَبُو إِسْرَائِيلَ لَمْ يَسْمَعْ ہَذَا الْحَدِيثَ مِنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ قَالَ إِنَّمَا رَوَاہُ عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عُمَارَةَ عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ وَأَبُو إِسْرَائِيلَ اسْمُہُ إِسْمَعِيلُ بْنُ أَبِي إِسْحَقَ وَلَيْسَ ہُوَ بِذَاكَ الْقَوِيِّ عِنْدَ أَہْلِ الْحَدِيثِ وَقَدْ اخْتَلَفَ أَہْلُ الْعِلْمِ فِي تَفْسِيرِ التَّثْوِيبِ فَقَالَ بَعْضُہُمْ التَّثْوِيبُ أَنْ يَقُولَ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ وَہُوَ قَوْلُ ابْنِ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدَ و قَالَ إِسْحَقُ فِي التَّثْوِيبِ غَيْرَ ہَذَا قَالَ التَّثْوِيبُ الْمَكْرُوہُ ہُوَ شَيْءٌ أَحْدَثَہُ النَّاسُ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ إِذَا أَذَّنَ الْمُؤَذِّنُ فَاسْتَبْطَأَ الْقَوْمَ قَالَ بَيْنَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ قَدْ قَامَتْ الصَّلَاةُ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَی الْفَلَاحِ قَالَ وَہَذَا الَّذِي قَالَ إِسْحَقُ ہُوَ التَّثْوِيبُ الَّذِي قَدْ كَرِہَہُ أَہْلُ الْعِلْمِ وَالَّذِي أَحْدَثُوہُ بَعْدَ النَّبِيِّ ﷺ وَالَّذِي فَسَّرَ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَحْمَدُ أَنَّ التَّثْوِيبَ أَنْ يَقُولَ الْمُؤَذِّنُ فِي أَذَانِ الْفَجْرِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ وَہُوَ قَوْلٌ صَحِيحٌ وَيُقَالُ لَہُ التَّثْوِيبُ أَيْضًا وَہُوَ الَّذِي اخْتَارَہُ أَہْلُ الْعِلْمِ وَرَأَوْہُ وَرُوِيَ عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ أَنَّہُ كَانَ يَقُولُ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنْ النَّوْمِ وَرُوِيَ عَنْ مُجَاہِدٍ قَالَ دَخَلْتُ مَعَ عَبْدِ اللہِ بْنِ عُمَرَ مَسْجِدًا وَقَدْ أُذِّنَ فِيہِ وَنَحْنُ نُرِيدُ أَنْ نُصَلِّيَ فِيہِ فَثَوَّبَ الْمُؤَذِّنُ فَخَرَجَ عَبْدُ اللہِ بْنُ عُمَرَ مِنْ الْمَسْجِدِ وَقَالَ اخْرُجْ بِنَا مِنْ عِنْدِ ہَذَا الْمُبْتَدِعِ وَلَمْ يُصَلِّ فِيہِ قَالَ وَإِنَّمَا كَرِہَ عَبْدُ اللہِ التَّثْوِيبَ الَّذِي أَحْدَثَہُ النَّاسُ بَعْدُ

بلال رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہﷺ نے فرمایا: فجرکے سوا کسی بھی صلاۃ میں تثویب ۱؎ نہ کرو ۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-اس باب میں ابومحذورہ رضی اللہ عنہ سے بھی روایت ہے،۲-بلال رضی اللہ عنہ کی حدیث کو ہم صرف ابواسرائیل ملائی کی سند سے جانتے ہیں۔اور ابواسرائیل نے یہ حدیث حکم بن عتیبہ سے نہیں سنی۔بلکہ انہوں نے اسے حسن بن عمارہ سے اورحسن نے حکم بن عتیبہ سے روایت کیا ہے،۳-ابواسرائیل کا نام اسماعیل بن ابی اسحاق ہے،اور وہ اہل الحدیث کے نزدیک زیادہ قوی نہیں ہیں،۴-اہل علم کا تثویب کی تفسیر کے سلسلے میں اختلاف ہے؛ بعض کہتے ہیں: تثویب فجر کی اذان میں الصلاۃ خیر من النوم(صلاۃ نیند سے بہتر ہے) کہنے کانام ہے ابن مبارک اور احمد کا یہی قول ہے،اسحاق کہتے ہیں: تثویب اس کے علاوہ ہے،تثویب مکروہ ہے،یہ ایسی چیز ہے جسے لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے بعد ایجاد کی ہے،جب موذن اذان دیتا اور لوگ تاخیر کرتے تو وہ اذان اور اقامت کے درمیان: قد قامت الصلاۃ،حی علی الصلاۃ،حی علی الفلاح کہتا،۴-اور جو اسحاق بن راہویہ نے کہاہے دراصل یہی وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے ناپسند کیاہے اور اسی کو لوگوں نے نبی اکرمﷺ کے بعد ایجاد کیاہے،ابن مبارک اور احمد کی جوتفسیر ہے کہ تثویب یہ ہے کہ مؤذن فجر کی اذان میں:الصلاۃ خیر من النومکہے تویہ کہنا صحیح ہے،اسے بھی تثویب کہاجاتاہے اور یہ وہ تثویب ہے جسے اہل علم نے پسند کیا اور درست جانا ہے،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ وہ فجرمیں الصلاۃ خیر من النومکہتے تھے،اور مجاہد سے مروی ہے کہ میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ ایک مسجد میں داخل ہواجس میں اذان دی جاچکی تھی۔ہم اس میں صلاۃ پڑھنا چاہ رہے تھے۔اتنے میں موذن نے تثویب کی،تو عبداللہ بن عمر مسجد سے باہر نکلے اورکہا: اس بدعتی کے پاس سے ہمارے ساتھ نکل چلو،اور اس مسجدمیں انہوں نے صلاۃ نہیں پڑھی،عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس تثویب کوجسے لوگوں نے بعد میں ایجاد کرلیاتھاناپسندکیا۔