Sheikh Zubair Alizai

Jamia al-Tirmidhi Hadith 199 (سنن الترمذي)

[199] إسنادہ ضعیف

ابو داود (514) ابن ماجہ (717)

الإ فریقي ضعیف

انوار الصحیفہ ص 195

تحقیق وتخریج:محدث العصر حافظ زبیر علی زئی رحمہ اللہ

حَدَّثَنَا ہَنَّادٌ حَدَّثَنَا عَبْدَةُ وَيَعْلَی بْنُ عُبَيْدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زِيَادِ بْنِ أَنْعُمٍ الْأَفْرِيقِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ زِيَادِ بْنِ الْحَارِثِ الصُّدَائِيِّ قَالَ أَمَرَنِي رَسُولُ اللہِ ﷺ أَنْ أُؤَذِّنَ فِي صَلَاةِ الْفَجْرِ فَأَذَّنْتُ فَأَرَادَ بِلَالٌ أَنْ يُقِيمَ فَقَالَ رَسُولُ اللہِ ﷺ إِنَّ أَخَا صُدَاءٍ قَدْ أَذَّنَ وَمَنْ أَذَّنَ فَہُوَ يُقِيمُ قَالَ وَفِي الْبَاب عَنْ ابْنِ عُمَرَ قَالَ أَبُو عِيسَی وَحَدِيثُ زِيَادٍ إِنَّمَا نَعْرِفُہُ مِنْ حَدِيثِ الْأَفْرِيقِيِّ وَالْأَفْرِيقِيُّ ہُوَ ضَعِيفٌ عِنْدَ أَہْلِ الْحَدِيثِ ضَعَّفَہُ يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ وَغَيْرُہُ قَالَ أَحْمَدُ لَا أَكْتُبُ حَدِيثَ الْأَفْرِيقِيِّ قَالَ وَرَأَيْتُ مُحَمَّدَ بْنَ إِسْمَعِيلَ يُقَوِّي أَمْرَہُ وَيَقُولُ ہُوَ مُقَارِبُ الْحَدِيثِ وَالْعَمَلُ عَلَی ہَذَا عِنْدَ أَكْثَرِ أَہْلِ الْعِلْمِ أَنَّ مَنْ أَذَّنَ فَہُوَ يُقِيمُ

زیاد بن حارث صدائی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے مجھے فجرکی اذان دینے کا حکم دیا تو میں نے اذان دی،پھر بلال رضی اللہ عنہ نے اقامت کہنی چاہی تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: قبیلہ صداء کے ایک شخص نے اذان دی ہے اور جس نے اذان دی ہے وہی اقامت کہے گا۔ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱-اس باب میں ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی روایت ہے،۲-زیاد رضی اللہ عنہ کی روایت کو ہم صرف افریقی کی سند سے جانتے ہیں اور افریقی محدثین کے نزدیک ضعیف ہیں۔یحیی بن سعید قطان وغیرہ نے ان کی تضعیف کی ہے۔احمد کہتے ہیں: میں افریقی کی حدیث نہیں لکھتا،لیکن میں نے محمد بن اسماعیل کو دیکھا وہ ان کے معاملے کوقوی قراردے رہے تھے اورکہہ رہے تھے کہ یہ مقارب الحدیث ہیں،۳-اکثر اہل علم کا اسی پرعمل ہے کہ جو اذان دے وہی اقامت کہے۔